مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 195 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 195

195 قسمت ہے کہ اس نے کعبہ کا طواف بھی کر لیا اور صفا اور مروہ کے درمیان سعی بھی کر لی مگر آنحضرت نے فرمایا : ایسا نہیں ہوسکتا۔نوٹ : یہ واقعہ صلح حدیبیہ کا ہے۔حضرت عثمان تو بطور سفیر مکہ چلے گئے اور باقی مسلمانوں کو مکہ میں داخل ہونے سے کفار نے روکا۔آنحضرت نے مسلمانوں کی یہ بات سن کر فرمایا کہ عثمان تو ایسا کرنے والا نہیں ہے ( یعنی اس نے ایسا نہیں کیا ہوگا) پس جب عثمان واپس آئے آنحضرت نے ان سے پوچھا کیا آپ نے کعبہ کا طواف کیا ؟ انہوں نے جواب دیا کہ یہ کس طرح ممکن تھا کہ میں طواف کر لیتا اس حالت میں کہ آنحضرت نے طواف نہ کیا ہو۔یہ حوالہ حضرت عثمان کی شانِ ایمانی ثابت کرتا ہے۔۱۷۔اگر اصحاب ثلاثہ مومن اور خلفائے برحق نہیں تھے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جو أَسَدُ اللهِ الْغَالِبِ عَلَى كُلِّ غَالِبٍ کے مصداق ہیں ان کی بیعت کیوں کی ؟ شیعوں کی معتبر کتاب ناسخ التواریخ جلد ۲ کتاب دوم صفحہ ۴۴۹ پر لکھا ہے : ثُمَّ مَدَّ يَدَهُ فَبَايَعَ۔“ 66 یعنی حضرت علیؓ نے اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر حضرت ابوبکر کی بیعت کی۔اگر کہو کہ انہوں نے تقیہ کر کے باعث خوف بیعت کی تو اول تو یہ حضرت علی جیسے ” اَشْجَعُ النَّاسِ ” فاتح خیبر اور شیر خدا کی شان کے خلاف ہے۔دوسرے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایک ”فاسق، غاصب اور خائن کی مجبوراً بیعت کر لینا ایک مستحسن فعل تھا تو پھر حضرت امام حسین نے اپنے جلیل القدر والد کی اس اچھی سنت پر عمل کر کے کیوں یزید کی بیعت نہ کی۔اپنی اور خاندان نبوت کے بیسیوں معصوموں کی جانیں کیوں قربان کروا ڈالیں؟ حالانکہ جہاں تک شجاعت اور مردانگی کا سوال ہے اس کے لحاظ سے اگر اس قسم کی کمزوری دکھانا ممکن ہوسکتا تھا تو امام حسین کے لئے ممکن ہوسکتا نہ کہ حضرت علی کے لئے۔پس ثابت ہے کہ چونکہ حضرت امام حسین کے نزدیک یزید خلیفہ بر حق نہ تھا اس لئے انہوں نے جان دے دی لیکن ایسے شخص کی بیعت نہ کی لیکن چونکہ حضرت علی کے نزدیک حضرات ابو بکر وعمر وعثمان خلفائے برحق تھے اس لئے انہوں نے ان کی بیعت کر لی۔دلائل و مطاعن شیعہ کا جواب شیعه: - إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ امَنُوا (المائدة : ۵۶) وَالَّذِينَ آمَنُوا سے حضرت علی مراد ہیں۔لہذا وہ خلیفہ بلا فصل ہوئے؟