مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 193 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 193

193 نے کی ہے جنہوں نے ابو بکر و عمر وعثمان کی بیعت کی اور اسی امر پر کی ہے جس امر پر ان کی کی تھی۔ایسے لوگ ہیں کہ اگر ایک شخص پر مجتمع ہو کر اس کو اپنا امام کہہ دیں تو یہی امر خدا کے ہاں بھی موجب رضا ہوتا ہے۔١٢- لِلَّهِ بَلادُ فَلان فَقَدْ قَوْمَ الْاَوَدَ وَ دَاوَى العَمَدَ وَ خَلَّفَ الْفِتْنَةَ وَأَقَامَ السُّنَّةَ ذَهَبَ نَقَّى الثَّوْبِ قَلِيْلَ الْعَيْبِ أَصَابَ خَيْرَهَا وَ سَبَقَ شَرَّهَا أَدَّى إِلَى اللَّهِ طَاعَتَهُ وَاتَّقَاهُ بحقه - (نہج البلاغہ جز ثانی _۲۲۳ _ ومن كلام له عليه السلام) فلاں آدمی کیا ہی اچھا تھا کیونکہ اس نے کبھی کو درست کیا اور دلوں کی بیماریوں کا علاج کیا۔فتنہ کو پیچھے ہٹایا اور سنت کو قائم کیا اور انتقال کیا ایسی حالت میں کہ وہ پاک اور بے عیب تھا۔خلافت کا اچھا حصہ پایا اور اُس میں پیدا ہونے والے شتر سے پہلے گزر گیا۔اللہ کی اطاعت گزاری کی اور اس کے حقوق میں تقویٰ سے کام لیا۔یہ سب عبارت حضرت علی نے حضرت عمر کی نسبت کہی۔چنانچہ اس خطبے کے حاشیہ میں عبد الحمید بن ابی الحدید شیعی نے لکھا ہے کہ فلاں سے مراد عمر ہیں۔۱۳۔امام جعفر صادق سے حضرت ابو بکر و عمر کے متعلق کسی نے سوال کیا۔تو انہوں نے جواب دیا : هُمَا إِمَامَانِ عَادِلَانِ قَاسِطَانِ كَانَا عَلَى الْحَقِّ وَمَا تَا عَلَيْهِ فَعَلَيْهِمَا رَحْمَةُ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيمَةِ (رسالہ ادله تقیہ فی ثبوت تقیہ مؤلفہ سلطان العلماء سید محمد صاحب مجہتد ) کہ وہ دونوں امام تھے عدل اور انصاف کرنے والے۔وہ دو نو حق پر تھے اور حق پر ہی ان کی وفات ہوئی اور قیامت کے دن ان پر خدا تعالیٰ کی رحمت ہوگی۔نوٹ :۔شیعوں کا اس قول کے متعلق یہ کہنا کہ امام جعفر نے دوسرے دن اس قول کی تاویل یہ کی تھی کہ ” اِمَامَانِ “ سے میری مراد ”اہل جہنم کے امام تھی۔غلط ہے بوجوہات ذیل۔(1) هُمَا إِمَامَانِ“ سے مراد اہل جہنم کے امام نہیں ہو سکتے۔کیونکہ عربی زبان اس کی اجازت نہیں دیتی۔هُمَا اِمَامَا اَهْلِ النَّارِ کہنا چاہیے تھا کیونکہ تثنیہ یا جمع کا صیغہ جب مضاف ہوتو اس کے آخر سے نون گر جاتا ہے جیسے هُمُ مُسْلِمُوا مَكَّةَ (یعنی وہ مکہ کے مسلمان ہیں هُمُ مُسْلِمُونَ مكة نہیں ہو سکتا۔) (۲) امام سے جس شخص نے فتویٰ پوچھا اس کو تو آپ نے مندرجہ بالا صاف الفاظ میں