مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 179
179 بہاء اللہ کے نزدیک آنحضرت اور دوسرے انبیاء کا درجہ بابی یا بہائی عوام کو دھوکہ دیتے ہیں کہ وہ مسلمان ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان رکھتے ہیں یا آپ کو افضل الانبیاء مانتے ہیں مگر چونکہ ان میں بھی شیعوں کی طرح تقیہ جائز ہے اس لئے اس دھوکہ دہی کو بھی وہ مذہباً جائز سمجھتے ہیں حالانکہ یہ سب بالکل جھوٹ ہے۔اس کے لئے ذیل کے حوالہ جات ملاحظہ ہوں : ا۔کتاب ایقان صفحہ ۲۰۲ میں بہاء اللہ علی محمد باب کے متعلق لکھتا ہے : قدر و رتبه آنحضرت باب را ملاحظه فرما که قدرش اعظم از کل انبیاء وامرش اعلی وارفع از عرفان و ادراک کل اولیاء است۔اس میں باب کو بہاء اللہ نے اپنے متعلق صرف بشارت دینے والا ظاہر کیا ہے۔تو جب خود دعوی خدائی کیا تو ظاہر ہے کہ اپنے تئیں اولیاء سے کس قدر بزرگ تر سمجھتا ہوگا۔چنانچہ ذیل کے حوالہ جات سے ظاہر ہے۔۲۔بہاء اللہ اپنی کتاب مبین لوح رئیس میں صفحہ ۱۳۵ کی ایک طویل عبارت میں لکھتا ہے کہ آنحضرت کا قول مَا عَرَفْنَاكَ حَقَّ مَعْرِفَتِكَ کہ اے خدا جیسا حق تھا ہم نے تجھے نہیں پہچانا اگر وہ پرانے زمانے میں ہوتے تو فوراً بول اٹھتے کہ اے رسولوں کے مقصود ! ہم نے تجھ کو پہچان لیا اور حضرت ابرا ہیم کا یہ قول که رَبِّ اَرِنِى كَيْفَ تُحْيِ الْمَوْتى (البقرۃ: ۲۶۱) کہ اے رب دکھا کہ تو کس طرح مردوں کو زندہ کرتا ہے تو ان کو جواب ملا۔اَوَلَمْ تُؤْمِنُ (البقرۃ: ۲۶۱) کیا تو اس بات پر ایمان نہیں لایا ؟ عرض کیا وَلكِن نِيَطْمن قلبى (البقرة: ۲۶۱) اطمینان قلب کے لئے۔اگر ابراہیم میرے زمانے میں ہوتے تو اقرار کرتے کہ میرا دل مطمئن ہو گیا۔اسی طرح حضرت موسی نے کہا تھا کہ رب آرتی وہ بھی میرے زمانے میں ہوتے تو ان کی مراد پوری ہوتی۔اس حوالہ سے صاف ظاہر ہے کہ بہاء اللہ تمام نبیوں کے متعلق اپنازمانہ مبارک قرار دیتا ہے۔۲ مبین صفحہ ۹ لوح ملک روس میں بہاء اللہ لکھتے ہیں۔قَدْ ارْتَفَعَتْ آيَادِى الرُّسُلِ لِلقَائِی“۔کہ تمام رسولوں کے ہاتھ میری زیارت کے لئے اٹھتے ہیں۔مبین صفحہ ۷۹ - "مَا نَزَلَتِ الْكِتَابُ إِلَّا لِذِكْرِی“ کہ رسولوں پر جو تمام کتابیں نازل ہوئی ہیں ان کے نازل کرنے سے صرف میری ذات کا ذکر کرنا مقصود تھا۔