مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 140
140 کی نسل میں نبوت رکھی۔اب حضرت ابراہیم کی اولاد کی دوشاخیں تھیں۔بطریق ذیل: حضرت ابرا ہیم حضرت اسمعیل۔بنی اسماعیل (عرب) حضرت اسحاق۔یعقوب۔اسرائیل۔بنی اسرائیل چناچہ حضرت اسحق کی نسل سے (بنی اسرائیل میں ) پے بہ پے نبی ہوئے۔حضرت موسیٰ داؤد وسلیمان، بیچی، زکریا علیہم السلام سب انبیاء بنی اسرائیل سے ہوئے لیکن بالآخر بنی اسرائیل ظالم ہو گئے اور اس وعدہ کے مستحق نہ رہے جو خدا تعالیٰ نے ابراہیم سے کیا تھا۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے حضرت عیسی علیہ السلام کو بغیر باپ کے پیدا کر کے بتا دیا کہ اب حضرت اسحق کی نسل میں نبوت کا خاتمہ ہے۔اب چونکہ بنی اسرائیل ظالم ہوگئے ہیں اس لئے خدا کے وعدہ کے مطابق نبوت بنی اسمعیل کی طرف منتقل کر دی جائے گی۔چنانچہ حضرت عیسی علیہ السلام جو بغیر باپ کے پیدا ہوئے ان کے بعد نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا ہوئی جو بنی اسرائیل سے نہ تھے۔نیز حضرت عیسی علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے محض اپنی قدرت مجردہ سے بغیر باپ کے پیدا کر کے یہودیوں کو ایک نمونہ سے سمجھایا کہ تم اس پاک مولود کو جس کی والدہ ہر طرح سے بدکاری کی آلائش سے پاک ہے ولد الزنا قرار دیتے ہو اور حالت یہ ہے کہ تم میں سے ہزاروں بچے بد کاری کے نتیجہ میں ایسے پیدا ہوتے ہیں جن کے باپوں کا پتہ نہیں اور ہم نے تمہاری عملی حالت کے اظہار کے لئے عملی نمونہ قائم کیا ہے۔گو خدا تعالیٰ نے اس بچہ کو محض روح القدس کے وسیلہ سے بغیر باپ کے پیدا کیا مگر تم میں اب کوئی نہیں جو نبی کا باپ بن سکے۔لہذا تم اس قابل نہیں رہے کہ تم کو اس عہد کے مطابق جو خدا تعالیٰ نے ابراہیم کے ساتھ کیا تھا نبوت کی نعمت سے مشرف کیا جائے۔اس لئے اب وہ عظیم الشان نبی جو دس ہزار قد وسیوں کی جمعیت کے ساتھ اپنے داہنے ہاتھ میں آتشی شریعت لے کر آنے والا تھا مکہ کی بستی میں بنی اسمعیل کے گھرانے میں پیدا ہوگا اور تم سے نبوت چھین کر ان کو عنایت کی جائے گی تاکہ مسیح علیہ السلام کی یہ پیشگوئی پوری ہو کہ ”جس پتھر کو معماروں نے رد کیا وہی کونے کے سرے کا پتھر ہو گیا۔یہ خدواند کی طرف سے ہوا اور تمہاری نظروں میں عجیب ہے۔“ (متی ۲۱/۴۲) غرض یہ حکمت تھی جس کی بناء پر حضرت عیسی علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے بے باپ پیدا کیا تا کہ یہودیوں کی عملی حالت پر گواہ رہے۔پس اس کو وجہ فضیلت قرار دینا کسی صورت میں بھی قرین قیاس نہیں ہوسکتا۔بنی اسرائیل کی زنا کاری کے ثبوت کے لئے ملاحظہ ہو: (حز قیل ۶/۶۲ اوحز قیل اتا ۲۳/۵ و۲۰،۱۷/ ۲۳ در میاه ۳/۶)