مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 126 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 126

126 رکھتا ہے۔میرے کام میں سے کوئی چیز تجھ سے چھپی ہوئی نہیں ہے اور میں مفلس اور محتاج ہوں۔۔۔اور میں تیرے سامنے ایک گنہگار ذلیل کی طرح گڑ گڑاتا ہوں اور ایک ایسے خوفزدہ نابینا کی سی دعا کرتا ہوں جس کی گردن تیرے آگے جھکی ہوئی ہے اور اسکی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں اور اس کا جسم تیرے آگے سجدہ ریز ہے اور تیرے سامنے اس کی ناک ذلیل اور شرمندہ ہے۔اب یہ سب چونکہ خالق کے آگے مخلوق کی مناجات ہے اس لیے اس میں جتنا بھی زیادہ ابتہال اور انکسارا اور تذلیل ہوگا اتنا ہی اس کا مقام بالا از اعتراض ہوگا۔یہی صورت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعا کی ہے۔حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ شعر جس پر اعتراض کیا گیا ہے یہ بھی اللہ تعالیٰ کے سامنے عجز وانکسار اور دعا کا حامل ہے جیسا کہ حضرت داؤد علیہ السلام کی دعا ( بحوالہ زبور ) اوپر درج ہو چکی ہے۔بلکہ یہ کہنا بالکل درست ہے کہ حضرت اقدس علیہ السلام کی یہ مناجات لفظاً لفظاً حضرت داؤڑ کی دعا کا ترجمہ ہے۔پس جو شخص اس پر اعتراض کرتا ہے یا اس پر تمسخر اڑاتا ہے وہ حد درجہ کا شقی اور متفنِّی انسان ہے اور اپنی بدفطرتی کے مظاہرہ کے سوا اور کچھ نہیں کرتا۔(ح) حضرت اقدس علیہ السلام کا یہ قول محمول به انکسار ہے جیسا کہ خود حضور فرماتے ہیں:۔إِنَّ الْمُهَيْمِنَ لَا يُحِبُّ تَكَبُّرًا مِنْ خَلْقِهِ الضُّعَفَاءِ دُوْدِ فَنَاءِ انجام آتھم۔روحانی خزائن جلدا اصفحه ا۲۷) کہ خدا تعالیٰ اپنی مخلوق سے جو کہ ضعیف اور کیڑے ہیں تکبر پسند نہیں کرتا۔اس میں حضور نے تمام مخلوق کو کیڑے قرار دیا ہے اور تکبر سے اظہار نفرت فرمایا ہے۔پھر فرماتے ہیں:۔وَ مَا نَحْنُ إِلَّا كَالْفَتِيْل مَذَلَّةٌ بِأَعْيُنِهِمْ بَلْ مِنْهُ أَدْنَى وَ اَحْقَرُ (براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲ صفر ۳۳۴) کہ ہم اپنے مخالفوں کی نظر میں ایک ریشہ خرما کی طرح ہیں بلکہ اس سے زیادہ حقیر اور ذلیل۔پھر تحریر فرماتے ہیں :۔اس آیت میں ان نادان موحدوں کا رڈ ہے جو یہ اعتقا در کھتے ہیں جو ہمارے نبی صلی اللہ