مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 89
89 خدا بنارہے ہیں۔بلکہ اگر حضرت عیسی نے اپنے متعلق خدایا ابن کا لفظ استعمال بھی کیا ہے تو صرف انہی معنوں میں کیا ہے جن معنوں میں تمام نبیوں اور بزرگوں پر اس لفظ کا اطلاق کیا گیا ہے۔ثبوت اس کا سنیے :۔ایک دفعہ حضرت مسیح نے یہودیوں کے سامنے دعویٰ کیا کہ میں ابن اللہ ہوں۔یہود یہ سن کر طیش میں آگئے اور انہوں نے ارادہ کیا کہ مسیح پر پتھراؤ کریں۔مسیح نے کہا کہ تم مجھے کس قصور پر سزا دیتے ہو۔انہوں نے کہا کہ تو انسان ہو کر اپنے تئیں خدا بناتا ہے۔اس کفر بکنے کی ہم سزا دیتے ہیں۔مسیح نے جواب میں کہا:۔کیا تمہاری شریعت میں نہیں لکھا کہ میں نے کہا تم خدا ہو۔جبکہ اس نے انہیں جن کے پاس کلام آیا خدا کہا۔اور ممکن نہیں کہ کتاب باطل ہو۔( یوحناباب ۱۰ آیت ۳۴ تا ۳۶) اس عبارت کو سنا کر مسیح نے اپنے ابن اللہ ہونے کی حقیقت کھول دی کہ تم ناحق مجھے کافر کہتے ہو جبکہ توریت میں لکھا ہے کہ تمام وہ لوگ جن کے پاس خدا کا کلام آیا یعنی یہود، خدا ہیں۔تو پھر تم میرے ابن اللہ کہلانے پر خفا کیوں ہوتے ہو۔جبکہ تمہارے ہاں کتب انبیاء میں لکھا ہے کہ قضاۃ اور بزرگ لوگ الو ہیم یعنی خدا ہیں۔اسی طرح انہی معنوں میں میں بھی ابن اللہ ہونے کا مدعی ہوں۔الهامی منطق (مسیح میں خدائی صفات نہ پائی جاتی تھیں۔) ا۔خدا آزمایا نہیں جاتا۔( یعقوب ۱/۱۳) مسیح آزمایا گیا۔(متی ۴۱۱ و عبرانیوں ۴/۱۵) لہذا مسیح خدا نہیں۔۲۔خدا نہیں مرتا۔(۱ یتیم تھس ۶/۱۶ و دانی ایل ۶/۲۶) مسیح مرا۔متی ۲۷/۵۰ و یوحنا ۱۹/۳۰ ور ومیوں ۵/۶) نتیجہ مسیح خدا نہیں ہے۔۳۔خدا قیوم ہے۔مسیح قیوم نہیں ( متی ۲۰/۲۳۔اپنے دائیں بائیں بٹھانا میرا کام نہیں )۔اللہ تعالیٰ کسی سے دعا نہیں مانگتا۔مسیح نے دعا مانگی (لوق ۲۲/۴۴٫۵/۱۶)