فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 64
مسیح ہندوستان میں 64 فلسطین سے کشمیر تک امام محمد مہدی کے لئے بطور مشیر یا وزیر کے ہوں گے اور عنان حکومت صرف مہدی کے ہاتھ میں ہوگی لیکن حضرت مسیح تمام دنیا کے قتل کرنے کے لئے حضرت امام محمد مہدی کو ہر وقت اکسائیں گے۔اور تیز مشورے دیتے رہیں گے۔گویا اُس اخلاقی زمانہ کی کسر نکالیں گے جبکہ آپ نے یہ تعلیم دی تھی کہ کسی شر کا مقابلہ مت کرو اور ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری گال بھی پھیر دو۔یہ مسلمانوں اور مسیحیوں کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت عقیدے ہیں اور اگر چہ عیسائیوں کی یہ ایک بڑی غلطی ہے کہ وہ ایک عاجز انسان کو خدا کہتے ہیں لیکن بعض اہلِ اسلام جن میں سے اہلِ حدیث کا وہ فرقہ بھی ہے جن کو وہابی بھی کہتے ہیں ان کے یہ عقائد کہ جو خونی مہدی اور خونی مسیح موعود کی نسبت ان کے دلوں میں ہیں ان کی اخلاقی حالتوں پر نہایت بداثر ڈال رہے ہیں۔یہاں تک کہ وہ اس بداثر کی وجہ سے نہ کسی دوسری قوم سے نیک نیتی اور صلح کاری اور دیانت کے ساتھ رہ سکتے ہیں اور نہ کسی دوسری گورنمنٹ کے نیچے سچی اور کامل اطاعت اور وفاداری سے بسر کر سکتے ہیں اور ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ ایسا عقیدہ سخت اعتراض کی جگہ ہے کہ غیر قوموں پر اس قدر جبر کیا جائے کہ یا تو بلا توقف مسلمان ہو جائیں اور یاقتل کئے جائیں۔اور ہر ایک کانشنس بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ قبل اس کے کہ کوئی شخص کسی دین کی سچائی کو سمجھ لے اور اس کی نیک تعلیم اور خوبیوں سے مطلع ہو جائے یونہی جبر اور کراہ اور قتل کی دھمکی سے اس کو اپنے دین میں داخل کرنا سخت نا پسندیدہ طریقہ ہے اور ایسے طریقہ سے دین کی ترقی تو کیا ہوگی بلکہ برعکس اس کے ہر ایک مخالف کو اعتراض کرنے کا موقع ملتا ہے۔اور ایسے اصولوں کا آخری نتیجہ یہ ہے کہ نوع انسان کی ہمدردی بکلی دل سے اٹھ جائے اور رحم اور انصاف جو انسانیت کا ایک بھاری خلق ہے ناپدید ہو جائے اور بجائے اُس کے کینہ اور بداندیشی بڑھتی جائے اور صرف درندگی باقی رہ جائے اور اخلاق فاضلہ کا نام ونشان نہ رہے۔مگر ظاہر ہے کہ ایسے اصول اس خدا کی طرف سے نہیں ہو سکتے جس کا ہر ایک مواخذہ اتمام حجت کے بعد ہے۔سوچنا چاہئیے کہ اگر مثلاً ایک شخص ایک بچے مذہب کو اس وجہ سے قبول نہیں کرتا کہ وہ