فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 63
مسیح ہندوستان میں 63 فلسطین سے کشمیر تک ڈالیں گے اور بجز ایسے شخص کے جو بلا توقف مسلمان ہو جائے اور کسی کو زندہ نہیں چھوڑیں گے۔غرض مسلمانوں کا وہ فرقہ جو اپنے تئیں اہلِ سنت یا اہلِ حدیث کہتے ہیں جن کو عوام وہابی کے نام سے پکارتے ہیں حضرت عیسی علیہ السلام کے دوبارہ زمین پر نازل ہونے سے اصل مقصد یہ قرار دیتے ہیں کہ تا وہ ہندوؤں کے مہادیو کی طرح تمام دنیا کو فنا کر ڈالیں۔اول یہ ھمکی دیں کہ مسلمان ہو جائیں اور اگر پھر بھی لوگ کفر پر قائم رہیں تو سب کو تہ تیغ کر دیں۔اور کہتے ہیں کہ اسی غرض سے وہ جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر زندہ رکھے گئے ہیں کہ تا ایسے زمانہ میں جبکہ اسلامی سلاطین کی طاقتیں کمزور ہو جائیں آسمان سے اتر کر غیر قوموں کو ماریں اور جبر سے مسلمان کریں یا بصورت انکار قتل کر دیں۔بالخصوص عیسائیوں کی نسبت بڑے زور سے فرقہ مذکورہ کے عالم یہ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عیسی علیہ السلام آسمان سے اتریں گے تو وہ دنیا کی تمام صلیبیوں کو توڑ دیں گے اور تلوار کے ساتھ سخت بے رحمی کی کارروائیاں کریں گے اور دنیا کو خون میں غرق کر دیں گے۔اور جیسا کہ ابھی میں نے بیان کیا ہے یہ لوگ یعنی مسلمانوں میں سے اہلِ حدیث وغیرہ بڑے جوش سے یہ اعتقاد ظاہر کرتے ہیں کہ مسیح کے اترنے سے کچھ عرصہ پہلے بنی فاطمہ میں سے ایک امام پیدا ہوگا جس کا نام محمد مہدی ہوگا اور دراصل خلیفہ وقت اور بادشاہ وہی ہوگا کیونکہ وہ قریش میں سے ہوگا۔اور چونکہ اصل غرض اس کی یہ ہوگی کہ تمام غیر قوموں کو جو اسلام سے منکر ہیں قتل کر دیا جائے بجز ایسے شخص کے کہ جو جلدی سے کلمہ پڑھ لے اس لئے اُس کی مدد اور ہاتھ بٹانے کے لئے حضرت عیسی علیہ السلام آسمان سے اتریں گے اور گو حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی بجائے خود ایک مہدی ہیں بلکہ بڑے مہدی وہی ہیں لیکن اس سبب سے کہ خلیفہ وقت قریش میں سے ہونا چاہئیے اس لئے حضرت عیسی علیہ السلام خلیفہ وقت نہیں ہوں گے بلکہ خلیفہ وقت وہی محمد مہدی ہوگا۔اور کہتے ہیں کہ یہ دونوں مل کر زمین کوانسانوں کے خون سے بھر دیں گے اور اس قدر خونریزی کریں گے جس کی نظیر ابتداء دنیا سے اخیر تک کسی جگہ نہیں پائی جائے گی اور آتے ہی خونریزی ہی شروع کر دیں گے اور کوئی وعظ وغیرہ نہیں کریں گے اور نہ کوئی نشان دکھائیں گے اور کہتے ہیں کہ اگر چہ حضرت عیسی علیہ السلام