فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 62 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 62

62 فلسطین سے کشمیر تک مسیح ہندوستان میں تبدیلی ہوکر ملک پر ایک نہایت نیک اور بابرکت اثر پڑے گا۔ایسا ہی مجھے یقین ہے کہ عیسائی مذہب کے محقق اور دوسرے تمام سچائی کے بھوکے اور پیاسے بھی اس میری کتاب سے فائدہ اٹھائیں گے۔اور یہ جو میں نے ابھی بیان کیا ہے کہ اس کتاب کا اصل مدعا مسلمانوں اور عیسائیوں کی اُس غلطی کی اصلاح ہے جو ان کے بعض اعتقادات میں دخل پاگئی ہے یہ بیان کسی قدر تفصیل کا محتاج ہے جو ذیل میں لکھتا ہوں۔واضح ہو کہ اکثر مسلمانوں اور عیسائیوں کا یہ خیال ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام آسمان پر زندہ چلے گئے ہیں۔اور یہ دونوں فرقے ایک مدت سے یہی گمان کرتے چلے آئے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام اب تک آسمان پر زندہ موجود ہیں اور کسی وقت آخری زمانہ میں پھر زمین پر نازل ہوں گے۔اور ان دونوں فریق یعنی اہلِ اسلام اور مسیحیوں کے بیان میں فرق صرف اتنا ہے کہ عیسائی تو اس بات کے قائل ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے صلیب پر جان دی اور پھر زندہ ہو کر آسمان پر مع جسم عنصری چڑھ گئے اور اپنے باپ کے دائیں ہاتھ جا بیٹھے اور پھر آخری زمانہ میں دنیا کی عدالت کے لئے زمین پر آئیں گے اور کہتے ہیں کہ دنیا کا خدا اور خالق اور مالک وہی یسوع مسیح ہے اس کے سوا اور کوئی نہیں۔وہی ہے جو دنیا کے اخیر میں سزا جزا دینے کے لئے جلالی طور پر نازل ہو گا تب ہر ایک آدمی جس نے اس کو یا اس کی ماں کو بھی خدا کر کے نہیں مانا پکڑا جائے گا اور جہنم میں ڈالا جائے گا جہاں رونا اور دانت پیسنا ہو گا۔مگر مسلمانوں کے مذکورہ بالا فرقے کہتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام مصلوب نہیں ہوئے اور نہ صلیب پر مرے بلکہ اس وقت جبکہ یہودیوں نے ان کو مصلوب کرنے کے لئے گرفتار کیا خدا کا فرشتہ ان کو مع جسم عنصری آسمان پر لے گیا اور اب تک آسمان پر زندہ موجود ہیں اور مقام ان کا دوسرا آسمان ہے جہاں حضرت یحی نبی یعنی یوھتا ہیں۔اور نیز مسلمان یہ بھی کہتے ہیں کہ عیسی علیہ السلام خدا کا بزرگ نبی ہے مگر نہ خدا ہے اور نہ خدا کا بیٹا اور اعتقاد رکھتے ہیں کہ وہ آخری زمانہ میں دوفرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے دمشق کے منارہ کے قریب یا کسی اور جگہ اتریں گے اور امام محمد مہدی کے ساتھ مل کر جو پہلے سے بنی فاطمہ میں سے دنیا میں آیا ہوا ہو گا دنیا کی تمام غیر قوموں کو قتل کر