فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 61
61 فلسطین سے کشمیر تک مسیح ہندوستان میں یہی سبب ہے کہ بچپن سے ایسی کہانیاں اور قصے اور بے جا طور پر جہاد کے مسئلے ان کے کانوں میں ڈالے جاتے اور اُن کے دل میں بٹھائے جاتے ہیں جن کی وجہ سے رفتہ رفتہ ان کی اخلاقی حالت مردہ ہو جاتی ہے اور ان کے دل ان نفرتی کاموں کی بدی کو محسوس نہیں کر سکتے۔بلکہ جو شخص ایک غافل انسان کو قتل کر کے اس کے اہل وعیال کو تباہی میں ڈالتا ہے وہ خیال کرتا ہے کہ گویا اُس نے بڑا ہی ثواب کا کام بلکہ قوم میں ایک فخر پیدا کرنے کا موقعہ حاصل کیا ہے۔اور چونکہ ہمارے اس ملک میں اس قسم کی بدیوں کے روکنے کے لئے وعظ نہیں ہوتے اور اگر ہوتے بھی ہیں تو نفاق سے۔اس لئے عوام الناس کے خیالات کثرت سے ان فتنہ انگیز باتوں کی طرف جھکے ہوئے ہیں چنانچہ میں نے پہلے بھی کئی دفعہ اپنی قوم کے حال پر رحم کر کے اردو اور فارسی اور عربی میں ایسی کتابیں لکھی ہیں جن میں یہ ظاہر کیا ہے کہ مسلمانوں میں جہاد کا مسئلہ اور کسی خونی امام کے آنے کے انتظار کا مسئلہ اور دوسری قوموں سے بغض رکھنے کا مسئلہ یہ سب بعض کو نہ اندیش علماء کی غلطیاں ہیں ورنہ اسلام میں بجز دفاعی طور کی جنگ یا ان جنگوں کے سوا جو بغرض سزائے ظالم یا آزادی قائم کرنے کی نیت سے ہوں اور کسی صورت میں دین کے لئے تلوار اٹھانے کی اجازت نہیں اور دفاعی طور کی جنگ سے مراد وہ لڑائیاں ہیں جن کی ضرورت اس وقت پیش آتی ہے جب کہ مخالفوں کے بلوہ سے اندیشہ جان ہو یہ تین قسم کے شرعی جہاد ہیں بجز ان تین صورتوں کی جنگ کے اور کوئی صورت جو دین کے پھیلانے کیلئے ہو اسلام میں جائز نہیں۔غرض اس مضمون کی کتابیں میں نے بہت سا روپیہ خرچ کر کے اس ملک اور نیز عرب اور شام اور خراسان وغیرہ ممالک میں تقسیم کی ہیں لیکن اب مجھے خدائے تعالیٰ کے فضل سے ایسے باطل اور بے اصل عقائد کو دلوں میں سے نکالنے کے لئے وہ دلائل قومیہ اور کھلے کھلے ثبوت اور قرائن یقینیہ اور تاریخی شہادتیں ملی ہیں جن کی سچائی کی کرنیں مجھے بشارت دے رہی ہیں کہ عنقریب اُن کی اشاعت کے بعد مسلمانوں کے دلوں میں ان عقائد کے مخالف ایک تعجب انگیز تبدیلی پیدا ہونے والی ہے اور نہایت یقین سے امید کی جاتی ہے کہ ان سچائیوں کے سمجھنے کے بعد اسلام کے سعادت مند فرزندوں کے دلوں میں سے علم اور انکسار اور رحم دلی کے خوشنما اور شیریں چشمے جاری ہوں گے اور اُن کی رُوحانی