فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 60 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 60

60 فلسطین سے کشمیر تک مسیح ہندوستان میں واقعہ پر جو باتفاق علماء نصاری و یہود واہل اسلام ان کی تینتیس ۳۳ برس کی عمر میں وقوع میں آیا تھا وہ آسمان کی طرف اٹھائے گئے تھے تو وہ کونسا زمانہ ہوگا جس میں انہوں نے سیاحت کی تھی آپ لوگ اس قدر اپنے علم کی پردہ دری کیوں کراتے ہیں اگر تقویٰ ہے تو کیوں حق کو قبول نہیں کرتے۔ایام الصلح۔روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 391 تا392) مسیح ہندوستان میں (1899 ء) دیباچہ اس کتاب کو میں اس مراد سے لکھتا ہوں کہ تا واقعات صحیحہ اور نہایت کامل اور ثابت شده تاریخی شہادتوں اور غیر قوموں کی قدیم تحریروں سے اُن غلط اور خطر ناک خیالات کو دور کروں جو مسلمانوں اور عیسائیوں کے اکثر فرقوں میں حضرت مسیح علیہ السلام کی پہلی اور آخری زندگی کی نسبت پھیلے ہوئے ہیں۔یعنی وہ خیالات جن کے خوفناک نتیجے نہ صرف تو حید باری تعالیٰ کے رہزن اور غارت گر ہیں بلکہ اس ملک کے مسلمانوں کی اخلاقی حالت پر بھی ان کا نہایت بد اور زہریلہ اثر متواتر مشاہدہ میں آ رہا ہے اور ایسی بے اصل کہانیوں اور قصوں پر اعتقاد رکھنے سے بداخلاقی اور بداندیشی اور سخت دلی اور بے مہری کی رُوحانی بیماریاں اکثر اسلامی فرقوں میں پھیلتی جاتی ہیں اور ان کی صفت انسانی ہمدردی اور رحم اور انصاف اور انکسار اور تواضع کی پاک صفات اس قدر روز بروز کم ہوتی جاتی ہیں کہ گویا وہ اب جلد تر الوداع کہنے کو تیار ہیں۔اس سخت دلی اور بداخلاقی کی وجہ سے بہتیرے مسلمان ایسے دیکھے جاتے ہیں کہ ان میں اور درندوں میں شاید کچھ تھوڑا ہی سا فرق ہوگا۔اور ایک جین مت کا انسان اور یا بدھ مذہب کا ایک پابند ایک مچھر یا پتو کے مارنے سے بھی پر ہیز کرتا اور ڈرتا ہے۔مگر افسوس کہ ہم مسلمانوں میں سے اکثر ایسے ہیں کہ وہ ایک ناحق کا خون کرنے اور ایک بے گناہ انسان کی جان ضائع کرنے کے وقت بھی اُس قادر خدا کے مواخذہ سے نہیں ڈرتے جس نے زمین کے تمام جانوروں کی نسبت انسان کی جان کو بہت زیادہ قابل قدر قرار دیا ہے۔اس قد رسخت دلی اور بے رحمی اور بے مہری کا کیا سبب ہے؟