فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 59 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 59

ایام الصلح 59 فلسطین سے کشمیر تک کمی زیادتی ممکن ہے کیونکہ تعصبات کی اکثر آمیزش ہو جاتی ہے۔لیکن جو کتا بیں علمی رنگ میں لکھی گئیں ان میں نہایت تحقیق اور تدقیق سے کام لیا جاتا ہے۔لہذا یہ نسخہ مرہم عیسی اصل حقیقت کے دریافت کرنے کے لئے نہایت اعلیٰ درجہ کا ذریعہ ہے۔اور اس سے پتہ لگتا ہے کہ یہ خیالات کہ گویا حضرت عیسی آسمان پر چلے گئے تھے کیسے اور رکس پایہ کے ہیں۔اور خود ظاہر ہے کہ حضرت عیسی کے جسم کو آسمان پر اُٹھانے کے لئے کوئی بھی ضرورت نہیں تھی۔خدا تعالیٰ حکیم ہے عبث کام کبھی نہیں کرتا۔جبکہ اس نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غار ثور میں صرف دو تین میل کے فاصلے پر مکہ سے چھپا دیا اور سب ڈھونڈنے والے نا کام اور نامراد واپس کئے تو کیا وہ حضرت مسیح کو کسی پہاڑ کی غار میں چھپا نہیں سکتا تھا اور بجز دوسرے آسمان پر پہنچانے کے یہودیوں کی ہمت اور تلاش پر اس کو دل میں کھڑ کا تھا ؟ ایام اصلح۔روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 347 تا 353) غرض حضرت عیسی کی نسبت کوئی خصوصیت قرار دینا قرآنی تعلیم کے مخالف اور عیسائیوں کی تائید ہے اور جیسا کہ نصوص قطعیہ کے رُو سے حضرت عیسی کی وفات ثابت ہوتی ہے ایسا ہی تاریخی سلسلہ کے رُو سے بھی اُن کا مرنا بپایہ ثبوت پہنچتا ہے۔دیکھو نسخہ مرہم عیسی جس کا ذکر میں مفصل لکھ چکا ہوں۔کیسی صفائی سے ظاہر کر رہا ہے کہ حضرت عیسی واقعہ صلیب کے وقت آسمان پر نہیں اُٹھائے گئے۔بلکہ زخمی ہو کر ایک مکان میں پوشیدہ پڑے رہے اور چالیس دن تک اُن کی مرہم پٹی ہوتی رہی کیا یہ تمام دنیا کے طبیب اسلامی اور عیسائی اور مجوسی اور روسی اور یہودی جھوٹے ہیں اور تم سچے ہو؟ اب سوچو تمہارا یہ عقیدہ آسمان پر اٹھائے جانے کا کہاں گیا یہ نہ ایک نہ دو بلکہ ہزار کتاب متفرق فرقوں کی ہے جو واقعات صحیحہ کی گواہی دے کر جھوٹے منصوبوں کی قلعی کھول رہی ہیں۔یہ کس اعلیٰ درجہ کا ثبوت ہے ذرا خدا سے ڈر کر سوچو۔پھر یہ بھی آثار میں لکھا ہے کہ مسیح ابن مریم نبی سیاح تھا بلکہ وہی ایک نبی تھا جس نے دنیا کی سیاحت کی۔لیکن اگر یہ عقیدہ تسلیم کیا جائے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیب -