فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 58
ايام الصلح 58 فلسطین سے کشمیر تک لئے تمام رات دعا مانگی تھی اور یہ بالکل بعید از قیاس ہے کہ ایسا مقبول درگاہ الہی تمام رات رو رو کر دعامانگے اور وہ دعا قبول نہ ہو۔چوتھی دلیل یہ ہے کہ صلیب پر پھر مسیح نے اپنے بچنے کے لئے یہ دُعا کی۔ایلـی ایـلـی لـما سبقتانی“ اے میرے خدا! اے میرے خدا! تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔اب کیونکر ممکن ہے کہ جب کہ اس حد تک اُن کی گدازش اور سوزش پہنچ گئی تھی پھر خدا اُن پر رحم نہ کرتا۔پانچویں دلیل یہ ہے کہ حضرت مسیح صلیب پر صرف گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ رکھے گئے اور شاید اس سے بھی کم اور پھر ا تارے گئے اور یہ بالکل بعید از قیاس ہے کہ اس تھوڑے عرصہ اور تھوڑی تکلیف میں اُن کی جان نکل گئی ہو اور یہود کو بھی پختہ نظن سے اس بات کا دھڑ کا تھا کہ یسوع صلیب پر نہیں مرا۔چنانچہ اس کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ بھی قرآن شریف میں فرماتا ہے یعنی یہود قتل مسیح کے بارے میں ظن میں رہے اور یقینی طور پر انہوں نے نہیں سمجھا کہ در حقیقت ہم نے قتل کر دیا۔چھٹی دلیل یہ ہے کہ جب یسوع کے پہلو میں ایک خفیف سا چھید دیا گیا تو اُس میں سے خون نکلا اور خون بہتا ہوا نظر آیا اور ممکن نہیں کہ مُردہ میں خون بہتا ہوا نظر آئے۔ساتویں دلیل یہ ہے کہ یسوع کی ہڈیاں توڑی نہ گئیں جو مصلوبوں کے مارنے کے لئے ایک ضروری فعل تھا۔کیونکہ تاریخ سے ثابت ہے کہ تین دن صلیب پر رکھ کر پھر بھی بعض آدمی زندہ رہ جاتے تھے پھر کیونکر ایسا شخص جو صرف چند منٹ صلیب پر رہا اور ہڈیاں نہ توڑی گئیں وہ مر گیا؟ آٹھویں دلیل یہ ہے کہ انجیل سے ثابت ہے کہ یسوع صلیب سے نجات پا کر پھر اپنے حواریوں کو ملا اور اُن کو اپنے زخم دکھلائے اور ممکن نہیں کہ یہ زخم اُس حالت میں موجود رہ سکتے کہ جب کہ یسوع مرنے کے بعد ایک تازہ اور نیا جلالی جسم پاتا۔نویں دلیل حضرت عیسی علیہ السلام کے صلیبی موت سے محفوظ رہنے پر یہی نسخہ مرہم عیسی ہے۔کیونکہ ہرگز خیال نہیں ہوسکتا کہ مسلمان طبیبوں اور عیسائی ڈاکٹروں اور رومی مجوسی اور یہودی طبیبوں نے باہم سازش کر کے یہ بے بنیاد قصہ بنالیا ہو۔بلکہ یہ نسخہ طبابت کی صدہا کتابوں میں لکھا ہوا اب تک موجود ہے۔ایک ادنیٰ استعداد کا آدمی بھی قرابا دین قادری میں اس نسخہ کو امراض الجلد میں لکھا ہوا پائے گا۔یہ بات ظاہر ہے کہ مذہبی رنگ کی تحریروں میں کئی قسم کی