فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 57
ایام الصلح 57 فلسطین سے کشمیر تک ساتھ صلیب دئیے گئے تھے اُن کی ہڈیاں توڑی گئیں لیکن مسیح کی ہڈیاں نہیں توڑیں کیونکہ پیلاطوس کے سپاہیوں نے جن کو پوشیدہ طور پر سمجھایا گیا تھا کہ دیا کہ اب نبض نہیں ہے اور یسوع مر چکا ہے۔مگر مجھے معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ راستباز کا قتل کرنا کچھ سہل امر نہیں اس لئے اس وقت نہ صرف پیلاطوس کے سپاہی یسوع کے بچانے کے لئے تدبیر میں کر رہے تھے بلکہ یہود بھی حواس باختہ تھے اور آثار قہر دیکھ کر یہودیوں کے دل بھی کانپ گئے تھے اور اُس وقت وہ پہلے زمانہ کے آسمانی عذاب جو ان پر آتے رہے اُن کی آنکھوں کے سامنے تھے۔اس لئے کسی یہودی کو یہ جرات نہ ہوئی کہ یہ کہے کہ ہم تو ضرور ہڈیاں توڑیں گے اور ہم باز نہیں آئیں گے کیونکہ اُس وقت رب السماوات والارض نہایت غضب میں تھا اور جلال الہی یہودیوں کے دلوں پر ایک رُعب ناک کام کر رہا تھا۔لہذا انہوں نے جن کے باپ دادے ہمیشہ خدا تعالیٰ کے غضب کا تجربہ کرتے آئے تھے جب سخت اور سیاہ آندھی اور عذاب کے آثار دیکھے اور آسمان پر سے خوفناک آثار نظر آئے تو وہ سراسیمہ ہو کر گھروں کی طرف بھاگے۔اس بات پر یقین کرنے کے لئے کہ حضرت عیسی علیہ السلام ہرگز صلیب پر فوت نہیں ہوئے پہلی دلیل یہ ہے کہ وہ انجیل میں یونس نبی سے اپنی مشابہت بیان فرماتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یونس کی طرح میں بھی قبر میں تین دن رہوں گا جیسا کہ یونس مچھلی کے پیٹ میں رہا تھا۔اب یہ مشابہت جو نبی کے منہ سے نکلی ہے قابل غور ہے۔کیونکہ اگر حضرت مسیح مردہ ہونے کی حالت میں قبر میں رکھے گئے تھے تو پھر مر دہ اور زندہ کی کس طرح مشابہت ہو سکتی ہے؟ کیا یونس مچھلی کے پیٹ میں مرارہا تھا؟ سو یہ ایک بڑی دلیل اس بات پر ہے کہ ہرگز مسیح علیہ السلام صلیب پر فوت نہیں ہوئے اور نہ وہ مردہ ہونے کی حالت میں قبر میں داخل ہوئے۔پھر دوسری دلیل یہ ہے کہ پیلاطوس کی بیوی کو خواب میں دکھلایا گیا کہ اگر یہ شخص مارا گیا تو اس میں تمہاری تباہی ہے۔اب ظاہر ہے کہ اگر حقیقت میں عیسیٰ علیہ السلام صلیب دیے جاتے یعنی صلیبی موت سے مر جاتے تو ضرور تھا کہ جو فرشتہ نے پیلاطوس کی بیوی کو کہا تھا وہ وعید پورا ہوتا۔حالانکہ تاریخ سے ظاہر ہے کہ پیلاطوس پر کوئی تباہی نہیں آئی۔تیسری دلیل یہ ہے کہ حضرت مسیح نے خود اپنے بچنے کے