فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 56 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 56

امام الصلح 56 فلسطین سے کشمیر تک خدانخواستہ اگر واقعہ صلیب وقوع میں آ جاتا تو حضرت عیسی علیہ السلام پر یہ ایک ایسا داغ ہوتا کہ کسی طرح اُن کی نبوت درست نہ ٹھہر سکتی اور نہ وہ راستباز ٹھہر سکتے اس لئے خدا تعالیٰ کی حمایت نے وہ تمام اسباب جمع کر دئیے جن سے حضرت عیسی علیہ السلام مصلوب ہونے سے بچ گئے۔ان اسباب میں سے پہلا سبب یہی تھا کہ پیلاطوس کی بیوی کو خواب آیا اور اُس سے ڈر کر پیلاطوس نے یہ تدبیر سوچی کہ یسوع جمعہ کے دن عصر کے وقت صلیب دیا جائے۔اس تدبیر میں پیلاطوس نے یہ سوچا تھا کہ غالبا اس قلیل مدت کی وجہ سے جو صرف جمعہ کے ایک دو گھنٹے ہیں یسوع کی جان بچ جائے گی کیونکہ یہ ناممکن تھا کہ جمعہ ختم ہونے کے بعد مسیح صلیب پر رہ سکتا۔وجہ یہ کہ یہودیوں کی شریعت کے رُو سے یہ حرام تھا کہ کوئی شخص سبت میں یا سبت سے پہلی رات میں صلیب پر رہے اور صلیب دینے کا یہ طریق تھا که صرف مجرم کو صلیب کے ساتھ جوڑ کر اُس کے پیروں اور ہاتھوں میں کیل ٹھونکے جاتے تھے اور تین دن تک وہ اسی حالت میں دھوپ میں پڑا رہتا تھا۔اور آخر کئی اسباب جمع ہو کر یعنی درد اور دھوپ اور تین دن کا فاقہ اور پیاس سے مجرم مر جاتا تھا۔مگر جیسا کہ ابھی میں نے بیان کیا ہے جو شخص جمعہ میں صلیب پر کھینچا جاتا تھا وہ اُسی دن اُتار لیا جاتا تھا کیونکہ سبت کے دن صلیب پر رکھنا سخت گناہ اور موجب تاوان اور سزا تھا۔سو یہ داؤ پیلاطوس کا چل گیا کہ یسوع جمعہ کی آخری گھڑی میں صلیب پر چڑھایا گیا۔اور نہ صرف یہی بلکہ خدا تعالیٰ کے فضل نے چند اور اسباب بھی ایسے پیدا کر دیئے جو پیلاطوس کے اختیار میں نہ تھے اور وہ یہ کہ عصر کے تنگ وقت میں تو یہودیوں نے حضرت مسیح کو صلیب پر چڑھایا اور ساتھ تو ہی ایک سخت آندھی آئی جس نے دن کو رات کے مشابہ کر دیا۔اب یہودی ڈرے کہ شاید شام ہوگئی کیونکہ یہودیوں کو سبت کے دن یا سبت کی رات کسی کو صلیب پر رکھنے کی سخت ممانعت تھی اور یہودیوں کے مذہب کے رُو سے دن سے پہلے جو رات آتی ہے وہ آنے والے دن میں شمار کی جاتی ہے۔اس لئے جمعہ کے بعد جو رات تھی وہ سبت کی رات تھی۔لہذا یہودی آندھی کے پھیلنے کے وقت میں اس بات سے بہت گھبرائے کہ ایسا نہ ہو کہ سبت کی رات میں یہ شخص صلیب پر ہو۔اس لئے جلدی سے انہوں نے اتار لیا اور دو چور جو