فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 54 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 54

ایام الصلح 54 فلسطین سے کشمیر تک اس جگہ یہ بھی واضح رہے کہ میں نے طاعون کے علاج کے لئے ایک مرہم بھی طیار کی ہے یہ ایک پر انا نسخہ ہے جو حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت سے چلا آتا ہے اور اس کا نام مرہم عیسی ہے اگر چہ امتدادزمانہ کے سبب سے بعض دواؤں میں تبدیلی ہوگئی ہے یعنی طب کی بہت سی کتابوں کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک طبیب نے کوئی دوا اس نسخہ میں داخل کی ہے اور دوسرے نے بجائے اس کے کوئی اور داخل کر دی ہے۔لیکن یہ تغیر صرف ایک دودواؤں میں ہوا ہے اس کا سبب یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہر ایک دوا ہر ایک ملک میں پائی نہیں جاتی یا کم پائی جاتی ہے یا بعض موسموں میں پائی نہیں جاتی۔سو جس جگہ یہ اتفاق ہوا کہ ایک دوا مل نہیں سکی تو کسی طبیب نے اُس کا بدل کوئی اور دوا ڈال دی اور در حقیقت قرابادینوں کے تمام مرکبات میں جو بعض جگہ اختلاف نسخوں کا پایا جاتا ہے اس کا یہی سبب ہے مگر ہم نے بڑی کوشش سے اصل نسخہ طیار کیا ہے۔اس مرکب کا نام مرہم عیسی ہے اور مرہم حوار بین بھی اسے کہتے ہیں اور مرہم الرسل بھی اس کا نام ہے کیونکہ عیسائی لوگ حواریوں کو مسیح کے رسول یعنی اینچی کہتے تھے کیونکہ اُن کو جس جگہ جانے کے لئے حکم دیا جاتا تھا وہ ایلچی کی طرح جاتے تھے۔یہ نہایت عجیب بات ہے کہ جیسا کہ یہ نسخہ طب کے تمام نسخوں سے قدیم اور پرانا ثابت ہوا ہے ایسا ہی یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ دنیا کی اکثر قوموں کے طبیبوں نے اس نسخہ کو اپنی اپنی کتابوں میں لکھا ہے۔چنانچہ جس طرح عیسائی طبیب اس نسخہ کو اپنی کتابوں میں لکھتے آئے ہیں ایسا ہی رومی طبابت کی قدیم کتابوں میں بھی یہ نسخہ پایا جاتا ہے۔اور زیادہ تر تعجب یہ ہے کہ یہودی طبیبوں نے بھی اس نسخہ کو اپنی کتابوں میں درج کیا ہے اور وہ بھی اس بات کے قائل ہو گئے ہیں کہ یہ نسخہ حضرت عیسی علیہ السلام کی چوٹوں کے لئے بنایا گیا تھا اور نصرانی طبیبوں کی کتابوں اور مجوسیوں اور مسلمان طبیبوں اور دوسرے تمام طبیبوں نے جو مختلف قوموں میں گذرے ہیں اس بات کو بالا تفاق تسلیم کر لیا ہے کہ یہ نسخہ حضرت عیسی علیہ السلام کے لئے بنایا گیا تھا۔چنانچہ ان مختلف فرقوں کی کتابوں میں سے ہزار کتاب ایسی پائی گئی ہے جن میں یہ نسخہ مع وجہ تسمیہ درج ہے اور وہ کتابیں اب تک موجود ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے اکثر وہ کتا ہیں ہمارے کتب خانہ