فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 50 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 50

ایام الصلح 50 فلسطین سے کشمیر تک ہے۔اور نیر سے قیس پیدا ہوا اور قیس سے ساؤل پیدا ہوا اور ساؤل سے یہوشتن۔“ ساتواں قرینہ اخلاقی حالتیں ہیں۔جیسا کہ سرحدی افغانوں کی زودرنجی اور تلون مزاجی اور خود غرضی اور گردن کشی اور کج مزاجی اور کج روی اور دوسرے جذبات نفسانی اور خونی خیالات اور جاہل اور بے شعور ہونا مشاہدہ ہو رہا ہے۔یہ تمام صفات وہی ہیں جو توریت اور دوسرے صحیفوں میں اسرائیلی قوم کی لکھی گئی ہیں اور اگر قرآن شریف کھول کر سورہ بقرہ سے بنی اسرائیل کی صفات اور عادات اور اخلاق اور افعال پڑھنا شروع کرو تو ایسا معلوم ہوگا کہ گویا سرحدی افغانوں کی اخلاقی حالتیں بیان ہو رہی ہیں۔اور یہ رائے یہاں تک صاف ہے کہ اکثر انگریزوں نے بھی یہی خیال کیا ہے۔بر نیر نے جہاں یہ لکھا ہے کہ کشمیر کے مسلمان کشمیری بھی دراصل بنی اسرائیل ہیں۔وہاں بعض انگریزوں کا بھی حوالہ دیا ہے اور ان تمام لوگوں کو اُن دس فرقوں میں سے ٹھہرایا ہے جو مشرق میں گم ہیں جن کا اب اس زمانہ میں پتہ ملا ہے کہ وہ در حقیقت سب کے سب مسلمان ہو گئے ہیں۔پھر جبکہ افغانوں کی قوم کے اسرائیلی ہونے میں اتنے قرائن موجود ہیں اور خود وہ تعامل کے طور پر اپنے باپ دادوں سے سنتے آئے ہیں کہ وہ قوم اسرائیلی ہیں اور یہ باتیں ان کی قوم میں واقعات شہرت یافتہ ہیں تو سخت نا انصافی ہوگی کہ ہم محض تحکم کے طور سے اُن کے اِن بیانات سے انکار کریں۔ذرا یہ تو سوچنا چاہئیے کہ ان کے دلائل کے مقابلہ پر ہمارے ہاتھ میں انکار کی کیا دلیل ہے؟ یہ ایک قانونی مسئلہ ہے کہ ہر ایک پرانی دستاویز جو چالیس برس سے زیادہ کی ہو وہ اپنی صحت کا آپ ثبوت ہوتی ہے پھر جبکہ صد ہا سال سے دوسری قوموں کی طرح جو اپنی اپنی اصلیت بیان کرتی ہیں افغان لوگ اپنی اصلیت قوم اسرائیل قرار دیتے ہیں تو ہم کیوں جھگڑا کریں اور کیا وجہ کہ ہم قبول نہ کریں؟ یادر ہے کہ یہ ایک دو کا بیان نہیں یہ ایک قوم کا بیان ہے جو لاکھوں انسانوں کا مجموعہ ہے اور پشت بعد پشت کے گواہی دیتے چلے آئے ہیں۔اب جبکہ یہ بات فیصلہ پا چکی کہ تمام افغان در حقیقت بنی اسرائیل ہیں تو اب یہ دوسرا امر ظاہر کرنا باقی رہا کہ پیشگوئی توریت استثنا باب ۱۸ آیت ۱۵ سے ۱۹ تک کی افغانی 1 تواریخ باب 9 آیت 39