فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 49 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 49

ایام الصلح 49 فلسطین سے کشمیر تک تیسرا قرینہ ایک یہ بھی ہے کہ افغانوں کی شکلیں بھی اسرائیلیوں سے بہت ملتی ہیں۔اگر ایک جماعت یہودیوں کی ایک افغانوں کی جماعت کے ساتھ کھڑی کی جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ اُن کا منہ اور ان کا اونچا ناک اور چہرہ بیضاوی ایسا با ہم مشابہ معلوم ہوگا کہ خود دل بول اُٹھے گا کہ یہ لوگ ایک ہی خاندان میں سے ہیں۔چوتھا قرینہ افغانوں کی پوشاک بھی ہے افغانوں کے لمبے گرتے اور جیسے یہ وہی وضع اور پیرامید اسرائیلیوں کا ہے جس کا انجیل میں بھی ذکر ہے۔پانچواں قرینہ اُن کے وہ رسوم ہیں جو یہودیوں سے بہت ملتے ہیں مثلاً ان کے بعض قبائل ناطہ اور نکاح میں کچھ چنداں فرق نہیں سمجھتے اور عورتیں اپنے منسوب سے بلا تکلف ملتی ہیں اور باتیں کرتی ہیں۔حضرت مریم صدیقہ کا اپنے منسوب یوسف کے ساتھ قبل نکاح کے پھر نا اس اسرائیلی رسم پر پختہ شہادت ہے۔مگر خوانین سرحدی کے بعض قبائل میں یہ مماثلت عورتوں کی اپنے منسوبوں سے حد سے زیادہ ہوتی ہے۔حتی کہ بعض اوقات نکاح سے پہلے حمل بھی ہو جاتا ہے جس کو بُر انہیں مانتے بلکہ ہنسی ٹھٹھے میں بات کو ٹال دیتے ہیں کیونکہ یہود کی طرح یہ لوگ ناطہ کو ایک قسم کا نکاح ہی جانتے ہیں جس میں پہلے مہر بھی مقرر ہو جاتا ہے۔چھٹا قرینہ افغانوں کے بنی اسرائیل ہونے پر یہ ہے کہ افغانوں کا یہ بیان کہ قیس ہمارا مورث اعلیٰ ہے ان کے بنی اسرائیل ہونے کی تائید کرتا ہے۔کیونکہ یہودیوں کی کتب مقدسہ میں سے جو کتاب پہلی تاریخ کے نام سے موسوم ہے اس کے باب ۹ آیت ۳۹ میں قیس کا ذکر ہے اور وہ بنی اسرائیل میں سے تھا۔اس سے ہمیں پتہ ملتا ہے کہ یا تو اسی قیس کی اولاد میں سے کوئی دوسرا قیس ہو گا جو مسلمان ہو گیا ہوگا اور یا یہ کہ مسلمان ہونے والے کا کوئی اور نام ہوگا اور وہ اس قیس کی اولاد میں سے ہوگا۔اور پھر باعث خطاء حافظہ اس کا نام بھی قیس سمجھا گیا۔بہر حال ایک ایسی قوم کے منہ سے قیس کا لفظ نکلنا جو کتب یہود سے بالکل بے خبر تھی اور محض ناخواندہ تھی۔یقینی طور پر یہ سمجھاتا ہے کہ یہ قیس کا لفظ انہوں نے اپنے باپوں سے سُنا تھا کہ ان کا مورث اعلیٰ ہے۔پہلی تاریخ آیت ۳۹ کی یہ عبارت