فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 48 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 48

ایام الصلح 48 فلسطین سے کشمیر تک کے ناموں میں کیوں عبرانی الفاظ نہیں اور ان کا شجرہ پیش کردہ توریت کے بعض مقامات سے کیوں اختلاف رکھتا ہے۔یہ سب قیاسی باتیں ہیں جو قومی تاریخ اور تواتر کو مٹا نہیں سکتیں۔دیکھو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے اس شجرہ کو صحیح نہیں قرار دیا جو وہ لوگ حضرت اسمعیل تک پہنچایا کرتے تھے اور بجز چند پشت کے باقی کذب کا ذبین قرار دیا ہے۔مگر اس سے یہ لازم نہیں آیا کہ قریش بنی اسمعیل نہیں ہیں۔پھر جب کہ قریش جو علم انساب میں بڑے حریص تھے تفصیل وارسلسلہ یاد نہ رکھ سکے تو یہ قوم افغان جن میں اکثر غفلت میں زندگی بسر کرنے والے گذرے ہیں اگر انہوں نے اپنے سلسلہ کی تفاصیل بیان کرنے میں غلطی کی یا کچھ جھوٹ ملایا تو اصل مقصود میں کیا فرق آ سکتا ہے۔اور اب تو ریت بھی کونسی ایسی محفوظ ہے جو نص قطعی کا حکم رکھتی ہو۔ابھی ہم نے معلوم کیا ہے کہ یہود کے نسخوں اور عیسائیوں کے نسخوں میں بہت فرق ہے۔غرض یہ نکتہ چینی خوب نہیں ہے اور یہ بات بھی صحیح نہیں کہ افغانوں کے نام عبرانی طرز پر نہیں۔بھلا بتاؤ کہ یوسف زئی ، داؤ دز کی اور سلیمان زئی یہ عبرانیوں کے نام ہیں یا کچھ اور ہے۔ہاں جب یہ لوگ دوسرے ملکوں میں آئے تو ان ملکوں کا رنگ بھی ان کی بول چال میں آ گیا۔دیکھو سادات کے نام بھی ہمارے ملک میں چنن شاہ اور گھمن شاہ اور نتھو شاہ اور متوشاہ وغیرہ پائے جاتے ہیں تو اب کیا اُن کو سید نہیں کہو گے؟ کیا یہ عربی نام ہیں؟ غرض یہ بیہودہ نکتہ چینیاں اور نہایت قابل شرم خیالات ہیں۔ہم قوم کی متواترات سے کیوں انکار کریں۔اس سے عمدہ تر اور صاف تر ذریعہ حقیقت شناسی کا ہمارے ہاتھ میں کون سا ہے؟ کہ خود قوم جس کی اصلیت ہم دریافت کرنا چاہتے ہیں ایک امر پر اتفاق رکھتی ہے۔ماسوا اس کے دوسرے قرائن بھی صاف بتلا رہے ہیں کہ حقیقت میں یہ لوگ اسرائیلی ہیں۔مثلاً کوہ سلیمان جو اول افغانوں کا مسکن تھا خود یہ ظاہر کر رہا ہے کہ اس پہاڑ کا یہ نام اسرائیلی یادگار کے لحاظ سے رکھا گیا ہے۔دوسرے ایک بڑا قرینہ یہ ہے کہ قلعہ خیبر جو افغانوں نے بنایا کچھ شک نہیں کہ یہ خیبر کا نام بھی محض اسرائیلی یادگار کے لئے اُس خیبر کے نام پر جو عرب میں ہے جہاں یہودی رہتے تھے رکھا تھا۔ان النبي لا حتى بلغ النضر بن كنانة ثم قال فمن قال غير ذلك فقد كذب۔(السيرة الحلبية تالیف ابی الفرج نور