فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 47 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 47

امام الصلح 47 فلسطین سے کشمیر تک وو ہماری سخت غلطی ہوگی کہ ہم ان اخبار مشہورہ متواترہ کو نظر انداز کریں جو ہر ایک قوم اپنی صحت قومیت کے بارے میں بطور تاریخی امر کے اپنے پاس رکھتی ہے۔ہاں یہ ممکن ہے کہ کوئی قوم اپنے خاندان کے بیان کرنے میں حد سے زیادہ مبالغات کر دے مگر ہمیں نہیں چاہئیے کہ مبالغات کو دیکھ کر یا کئی فضول اور بے ربط باتیں پا کر اصل امر کو بھی رڈ کر دیں۔بلکہ مناسب تو یہ ہے کہ وہ زوائد جو در حقیقت فضول معلوم ہوں چھوڑ دیئے جائیں اور نفس امر کو جس پر قوم کا اتفاق ہے لیا جائے۔پس اس طریق سے ہر ایک محقق کو ماننا پڑے گا کہ قوم افغان ضرور بنی اسرائیل ہے۔ہر ایک کو خود اپنے نفس کو اور اپنی قوم کو زیر بحث رکھ کر سوچنا چاہیے کہ اگر وہ قوم جس میں وہ اپنے تئیں داخل سمجھتا ہے کوئی دوسرا شخص محض چند قیاسی باتیں مد نظر رکھ کر اس قوم سے اس کو خارج کر دے اور تسلیم نہ کرے کہ وہ اس قوم میں سے ہے اور اس کے ان ثبوتوں کو جو پشت به پشت کے بیانات سے معلوم ہوئے ہیں نظر انداز کرے اور مجمع عظیم کے اتفاق کا کچھ بھی لحاظ نہ رکھے تو ایسا آدمی کیا فتنہ انگیز معلوم ہوتا ہے۔پس بقول شخصے کہ ہر چہ برخود نہ پسندی بر دیگرے نہ پسند یہ بھی نا مناسب ہے کہ دوسروں کی قسم قومیت پر جو ایک بڑی قومی اتفاق سے مانی گئی ہے ناحق کا جرح کیا جائے۔ہمیں کیا حق پہنچتا ہے اور ہمارے پاس کیا دلیل ہے کہ ہم ایک قوم کے مسلّمات اور متفق علیہ امرکو یوں ہی زبان سے رڈ کر دیں۔جب ایک امر منقولی اتفاق سے صحیح قرار دیا گیا ہے تو اس کے بعد قیاس کی گنجائش نہیں۔یہ بھی یا درکھنا چاہئیے کہ بہت سی باتیں فضولی اور شیخی کے طور پر بعض قوموں کے لوگ اپنی قومیت کی نسبت بیان کیا کرتے ہیں۔لیکن محقق لوگ فضول باتوں کی وجہ سے اصل واقعات کو ہر گز نہیں چھوڑتے بلکہ خُذْ مَاصَفَا وَدَعْ مَا كَدَز پر عمل کر لیتے ہیں مثلاً گوتم بدھ کے سوانح میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ وہ منہ کی راہ سے پیدا ہوا تھا۔لیکن جب ہم گوتم کے سوانح لکھنا چاہیں تو ہمیں نہیں چاہئیے کہ منہ کی راہ کی پیدائش پر نظر ڈال کر بدھ کے اصل وجود سے ہی انکار کر دیں۔تاریخ نویسی کا امر بڑا نازک امر ہے۔اس میں وہ شخص جادہ استقامت پر رہتا ہے کہ جو افراط اور تفریط دونوں سے پر ہیز کرے۔یہ اعتراض بھی ٹھیک نہیں کہ اگر افغان لوگ عبرانی الاصل تھے تو ان -