فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 40 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 40

كشف الغطاء 40 کشف الغطاء (1998ء) فلسطین سے کشمیر تک خدا تعالیٰ نے یہ نہایت فضل کیا ہے کہ ان لوگوں کے ان باطل خیالات کے دور کرنے کے لئے مسیح موعود کا آسمان سے اتر نا خلاف واقعہ ثابت کر دیا ہے۔کیونکہ خدا کے فضل سے میری کوششوں سے ثابت ہو چکا ہے اور اب تمام انسانوں کو بڑے بڑے دلائل اور کھلے کھلے واقعات کی وجہ سے ماننا پڑے گا کہ حضرت مسیح علیہ السلام ہرگز آسمان پر مع جسم عنصری نہیں گئے۔بلکہ خدا تعالیٰ کے وعدہ کے موافق اور ان دعاؤں کے قبول ہونے کی وجہ سے جو تمام رات حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنی جان بچانے کے لئے کی تھیں صلیب سے اور صلیبی لعنت سے بچائے گئے اور ہندوستان میں آئے اور بدھ مذہب کے لوگوں سے بخشیں کیں آخر کشمیر میں وفات پائی اور محلہ خان یار میں آپ کا مزار مقدس ہے جو شہزادہ نبی کے مزار کے نام پر مشہور ہے۔پھر جب کہ آسمان سے آنے والا ثابت نہ ہوسکا بلکہ اس کے برخلاف ثابت ہوا تو اس مہدی کا وجود بھی جھوٹ ثابت ہو گیا جس نے ایسے مسیح کے ساتھ مل کر خونریزیاں کرنا تھا۔کیونکہ بموجب قاعدہ تحقیق اور منطق کے دولازمی چیزوں میں سے ایک چیز کے باطل ہونے سے دوسری چیز کا بھی باطل ہونا لازم آیا۔لہذا ما نا پڑا کہ یہ سب خیالات باطل اور بے بنیاد اور لغو ہیں اور چونکہ توریت کے رو سے مصلوب لعنتی ہو جاتا ہے اور لعنت کا لفظ عبرانی اور عربی میں مشترک ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ ملعون خدا سے در حقیقت دور جا پڑے اور خدا اس سے بیزار ہو جائے اور وہ خدا سے بیزار ہو جائے اور خدا اس کا دشمن اور وہ خدا کا دشمن ہو جائے تو پھر نعوذ باللہ خدا کا ایسا پیارا۔ایسا برگزیدہ۔ایسا مقدس نبی جو مسیح ہے اس کی نسبت ایسی بے ادبی کوئی سچی تعظیم کرنے والا ہر گز نہیں کرے گا اور پھر واقعات نے اور بھی اس پہلو کو ثابت کر دیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام مصلوب نہیں ہوئے۔بلکہ اس ملک سے کفار کے ہاتھ سے نجات پا کر پوشیدہ طور پر ہندوستان کی طرف چلے آئے۔لہذا ان نادان مولویوں کے یہ سب قصے باطل ہیں اور یہ سب خطر ناک امیدیں لغو ہیں اور ان کا نتیجہ بھی بجز مفسدانہ