فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 38
راز حقیقت 38 فلسطین سے کشمیر تک بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہود کے فرقہ کی کشمیر میں گذر ہوئی ہے جن کے لئے حضرت عیسی کا کشمیر میں آنا ضروری تھا۔منہ را از حقیقت روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 169 نوٹ) خاتمہ کتاب خدا تعالیٰ کے فضل اور کرم سے مخالفوں کو ذلیل کرنے کے لئے اور اس راقم کی سچائی ظاہر کرنے کے لئے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ جو سرینگر میں محلہ خان یار میں یوز آسف کے نام سے قبر موجود ہے، وہ درحقیقت بلاشک وشبہ حضرت عیسی علیہ السلام کی قبر ہے۔مرہم عیسی جس پر طب کی ہزار کتاب بلکہ اس سے زیادہ گواہی دے رہی ہے اس بات کا پہلا ثبوت ہے کہ جناب مسیح علیہ السلام نے صلیب سے نجات پائی تھی وہ ہرگز صلیب پر فوت نہیں ہوئے۔اس مرہم کی تفصیل میں کھلی کھلی عبارتوں میں طبیبوں نے لکھا ہے کہ یہ مرهم ضربہ سقطہ اور ہر قسم کے زخم کے لئے بنائی جاتی ہے اور حضرت عیسی علیہ السلام کی چوٹوں کے لئے طیار ہوئی تھی یعنی ان زخموں کے لئے جو آپ کے ہاتھوں اور پیروں پر تھے۔اس مرہم کے ثبوت میں میرے پاس بعض وہ طبی کتا بیں بھی ہیں جو قریباً سات سو برس کی قلمی لکھی ہوئی ہیں۔یہ طبیب صرف مسلمان نہیں ہیں بلکہ عیسائی، یہودی اور مجوسی بھی ہیں جن کی کتابیں اب تک موجود ہیں۔قیصر روم کے کتب خانہ میں بھی رومی زبان میں ایک قرابا دین تھی اور واقعہ صلیب سے دو سو برس گزرنے سے پہلے ہی اکثر کتا بیں دنیا میں شائع ہو چکی تھیں۔پس بنیاد اس مسئلہ کی کہ حضرت مسیح صلیب پر فوت نہیں ہوئے اوّل خود انجیلوں سے پیدا ہوئی ہے جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں اور پھر مرہم عیسی نے علمی تحقیقات کے رنگ میں اس ثبوت کو دکھلایا۔پھر بعد اس کے وہ انجیل جو حال میں بہت سے دستیاب ہوئی اُس نے صاف گواہی دی کہ حضرت عیسی ضرور ہندوستان کے ملک میں آئے ہیں۔اس کے بعد اور بہت سی کتابوں سے اس واقعہ کا پتہ لگا۔اور تاریخ کشمیر اعظمی