فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 34
راز حقیقت 34 فلسطین سے کشمیر تک بھی قوت بخشتا ہے۔پھر موقعہ پر پہنچنے سے ایک اور دلیل معلوم ہوئی ہے کہ جیسا کہ نقشہ منسلکہ میں ظاہر ہے اس نبی کی مزار جنوبا وشمالاً واقع ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ شمال کی طرف سر ہے اور جنوب کی طرف پیر ہیں اور یہ طرزِ دفن مسلمانوں اور اہلِ کتاب سے خاص ہے اور ایک اور تائیدی ثبوت ہے کہ اس مقبرہ کے ساتھ ہی کچھ تھوڑے فاصلے پر ایک پہاڑ کوہ سلیمان کے نام سے مشہور ہے۔اس نام سے بھی پتہ ملتا ہے کہ کوئی اسرائیلی نبی اس جگہ آیا تھا۔یہ نہایت درجہ کی جہالت ہے کہ اس شہزادہ نبی کو ہندو قرار دیا جائے۔اور یہ ایسی غلطی ہے کہ ان روشن ثبوتوں کے سامنے رکھ کر اس کے رڈ کی بھی حاجت نہیں سنسکرت میں کہیں نبی کا لفظ نہیں آیا بلکہ یہ لفظ عبرانی اور عربی سے خاص ہے اور دفن کرنا ہندوؤں کا طریق نہیں۔اور ہندو لوگ تو اپنے مُردوں کو جلاتے ہیں لہذا قبر کی صورت بھی قطعی یقین دلاتی ہے کہ یہ نبی اسرائیلی ہے قبر کے مغربی پہلو کی طرف ایک سوراخ واقع ہے۔لوگ کہتے ہیں کہ اس سوراخ سے نہایت عمدہ خوشبو آتی رہی ہے۔یہ سوراخ کسی قدر کشادہ ہے، اور قبر کے اندر تک پہنچی ہوئی ہے۔اس سے یقین کیا جاتا ہے کہ کسی بڑے مقصود کے لئے یہ سوراخ رکھی گئی ہے غالباً کتبہ کے طور پر اس میں بعض چیزیں مدفون ہوں گی۔عوام کہتے ہیں کہ اس میں کوئی خزانہ ہے مگر یہ خیال قابلِ اعتبار معلوم نہیں ہوتا۔ہاں چونکہ قبروں میں اس قسم کا سوراخ رکھنا کسی ملک میں رواج نہیں۔اس سے سمجھا جاتا ہے کہ اس سوراخ میں کوئی عظیم الشان بھید ہے، اور صد ہا سال سے برابر یہ سوراخ چلے آنا یہ اور بھی عجیب بات ہے۔اس شہر کے شیعہ لوگ بھی کہتے ہیں کہ یہ کسی نبی کی قبر ہے جو کسی ملک سے بطور سیاحت آیا تھا اور شہزادہ کے لقب سے موسوم تھا۔شیعوں نے مجھے ایک کتاب بھی دکھلائی جس کا نام عین الحیات ہے۔اس کتاب میں بہت سا قصہ بصفحہ ۱۱۹ ابن بابویہ اور کتاب کمال الدین اور اتمام النعمت کے حوالہ سے لکھا ہے لیکن وہ تمام بیہودہ اور لغو قصے ہیں۔صرف اس کتاب میں اس قدر سچ بات ہے کہ صاحب کتاب قبول کرتا ہے کہ یہ نبی سیاح تھا اور شہزادہ تھا جو کشمیر میں آیا تھا۔اور اس شہزادہ نبی کے مزار کا پتہ یہ ہے کہ جب جامع مسجد سے روضہ بل یمین کے کوچہ میں آویں تو یہ مزار شریف آگے ملے گی۔اس مقبرہ کے بائیں طرف کی دیوار کے