فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 33
راز حقیقت 33 فلسطین سے کشمیر تک تعظیم کی نظر سے اس کو دیکھتے ہیں اور اس کی زیارت کرتے ہیں۔اور عام خیال ہے کہ اس مزار میں ایک بزرگ پیغمبر مدفون ہے جو کشمیر میں کسی اور ملک سے لوگوں کو نصیحت کرنے کے لئے آیا تھا۔اور کہتے ہیں کہ یہ نبی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قریبا چھ سو برس پہلے گذرا ہے۔یہ اب تک نہیں کھلا کہ اس ملک میں کیوں آیا۔مگر یہ واقعات بہر حال ثابت ہو چکے ہیں۔اور تو اتر شہادت سے کمال درجہ کے یقین تک پہنچ چکے ہیں کہ یہ بزرگ جن کا نام کشمیر کے مسلمانوں نے یوز آسف رکھ لیا ہے یہ نبی ہیں اور نیز شہزادہ ہیں۔اس ملک میں کوئی ہندوؤں کا لقب ان کا مشہور نہیں ہے جیسے راجہ یا اوتار یا رکھی ومنی وسدہ وغیرہ بلکہ بالا تفاق سب نبی کہتے ہیں اور نبی کا لفظ اہل اسلام اور اسرائیلیوں میں ایک مشترک لفظ ہے۔اور جبکہ اسلام میں کوئی نبی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہیں آیا اور نہ آ سکتا تھا اس لئے کشمیر کے عام مسلمان بالا تفاق یہی کہتے ہیں کہ یہ نبی اسلام کے پہلے کا ہے۔ہاں اس نتیجہ تک وہ اب تک نہیں پہنچے کہ جبکہ نبی کا لفظ صرف دو ہی قوموں کے نبیوں میں مشترک تھا یعنی مسلمانوں اور بنی اسرائیل کے نبیوں میں اور اسلام میں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی آ نہیں سکتا تو بالضرور یہی متعین ہوا کہ وہ اسرائیلی نبی ہے کیونکہ کسی تیسری زبان نے کبھی اس لفظ کا استعمال نہیں کیا۔بلاشبہ اس اشتراک کا صرف دو زبانوں اور دو قوموں میں تخصیص ہونالازمی ہے۔مگر بوجہ ختم نبوت اسلامی قوم اس سے باہر نکل گئی۔لہذا صفائی سے یہ بات طے ہو گئی کہ یہ نبی اسرائیلی نبی ہے۔پھر اس کے بعد تو اتر تاریخی سے یہ ثابت ہو جانا کہ یہ نبی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے چھ سو برس پہلے گذرا ہے پہلی دلیل پر اور بھی یقین کا رنگ چڑھاتا ہے اور زیرک دلوں کو زور کے ساتھ اس طرف لے آتا ہے کہ یہ نبی حضرت مسیح علیہ السلام ہیں کوئی دوسرا نہیں کیونکہ وہی اسرائیلی نبی ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے چھ سو برس پہلے گذرے ہیں۔پھر بعد اس کے اس متواتر خبر پر غور کرنے سے کہ وہ نبی شہزادہ بھی کہلاتا ہے یہ ثبوت نور علی نور ہو جاتا ہے کیونکہ اس مدت میں بجز حضرت عیسی علیہ السلام کے کوئی نبی شہزادہ کے نام سے کبھی مشہور نہیں ہوا۔پھر یوز آسف کا نام جو یسوع کے لفظ سے بہت ملتا ہے ان تمام یقینی باتوں کو اور