فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 32
راز حقیقت 32 دریافت کر لے اب اس کے بعد ا نکار بے حیائی ہے۔منہ فلسطین سے کشمیر تک راز حقیقت۔روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 161 نوٹ ) صرف یہی بات نہیں کہ بدھ مذہب کی بعض کتابوں میں حضرت عیسی علیہ السلام کے ہندوستان اور تبت میں آنے کا تذکرہ ہے بلکہ ہمیں معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ کشمیر کی پرانی تحریروں میں بھی اس کا تذکرہ ہے۔منہ راز حقیقت۔روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 163 حاشیہ) حال میں مسلمانوں کی تالیف بھی چند پرانی کتابیں دستیاب ہوئی ہیں جن میں صریح یہ بیان موجود ہے کہ یوز آسف ایک پیغمبر تھا جو کسی ملک سے آیا تھا اور شہزادہ بھی تھا۔اور کشمیر میں اُس نے انتقال کیا۔اور بیان کیا گیا ہے کہ وہ نبی چھ ۶۰۰ سو برس پہلے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گزرا ہے۔منہ ر از حقیقت۔روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 164 حاشیہ ) خط مولوی عبد اللہ صاحب باشند و کشمیر فائدہ عام کے لئے معہ نقشہ ، مزار حضرت عیسی علیہ السلام اس اشتہار میں شائع کیا جاتا ہے از جانب خاکسار عبد الله بخدمت حضور مسیح موعود السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ حضرت اقدس! اس خاکسار نے حسب الحکم سرینگر میں عین موقعہ پر یعنی روضہ مزار شریف شاہزادہ یوز آسف نبی اللہ علیہ الصلوۃ والسلام پر پہنچ کر جہاں تک ممکن تھا بکوشش تحقیقات کی اور معمر اور سن رسیدہ بزرگوں سے بھی دریافت کیا اور مجاوروں اور گرد و جوار کے لوگوں سے بھی ہر ایک پہلو سے استفسار کرتارہا۔جناب من عند التحقیقات مجھے معلوم ہوا ہے کہ یہ مزار در حقیقت جناب یوز آسف علیہ السلام نبی اللہ کی ہے اور مسلمانوں کے محلہ میں یہ مزار واقع ہے۔کسی ہندو کی وہاں سکونت نہیں اور نہ اُس جگہ ہندوؤں کا کوئی مدفن ہے۔اور معتبر لوگوں کی شہادت سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ قریباً اُنیس سو ۱۹۰۰ برس سے یہ مزار ہے۔اور مسلمان بہت عزت اور