فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 31
راز حقیقت 31 فلسطین سے کشمیر تک دلوں میں سرایت کر گیا ہے۔اور اس کے غلط ثابت ہونے سے عیسائی مذہب کا کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔اگر عیسائیوں میں کوئی فرقہ دینی تحقیق کا جوش رکھتا ہے تو ممکن ہے کہ ان ثبوتوں پر اطلاع پانے سے وہ بہت جلد عیسائی مذہب کو الوداع کہیں اور اگر اس تلاش کی آگ یورپ کے تمام دلوں میں بھڑک اُٹھے تو جو گر وہ چالیس کروڑ انسان کا انیس سو برس میں تیار ہوا ہے ممکن ہے کہ انہیں ماہ کے اندر دست غیب سے ایک پلٹا کھا کر مسلمان ہو جائے۔کیونکہ صلیبی اعتقاد کے بعد یہ ثابت ہونا کہ حضرت مسیح صلیب پر نہیں مارے گئے بلکہ دوسرے ملکوں میں پھرتے رہے یہ ایسا امر ہے کہ یکدفعہ عیسائی عقائد کو دلوں سے اڑا تا ہے اور عیسائیت کی دنیا میں انقلاب عظیم ڈالتا ہے۔اے عزیزو! اب عیسائی مذہب کو چھوڑو کہ خدا نے حقیقت کو دکھا دیا۔اسلام کی روشنی میں آؤ تا نجات پاؤ اور خدائے علیم جانتا ہے کہ یہ تمام نصیحت نیک نیتی سے تحقیق کامل کے بعد کی گئی ہے۔منہ راز حقیقت۔روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 154 تا 166 حاشیہ ) ایک نادان مسلمان نے اپنے دل سے ہی یہ بات پیش کی ہے کہ شاید یوز آسف سے زوجہ آصف مراد ہو جو سلیمان کا وزیر تھا۔مگر اُس جاہل کو یہ خیال نہیں آیا کہ زوجہ آصف نبی نہیں تھی اور اُس کو شہزادہ نہیں کہہ سکتے یہ بھی نہیں سوچا کہ یہ دونوں مذکر نام ہیں۔مؤنث کے لئے اگر وہ یہ صفات بھی رکھتی ہو نبیہ اور شہزادی کہا جائے گا۔نہ نبی اور شہزادہ۔اس سادہ لوح نے یہ بھی خیال نہیں کیا کہ اُنیس سو کی مدت حضرت عیسی کے زمانہ سے ہی مطابق آتی ہے۔سلیمان تو حضرت عیسی سے کئی سو برس پہلے تھا۔ماسوا اس کے اس نبی کی قبر کو جو سری نگر میں واقع ہے بعض یوز آسف کے نام سے پکارتے ہیں مگرا کثر لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ حضرت عیسی علیہ السلام کی قبر ہے۔ہمارے مخلص مولوی عبد اللہ صاحب کشمیری نے جب سری نگر میں اس مزار کی نسبت تفتیش کرنا شروع کیا تو بعض لوگوں نے یوز آسف کا نام سُن کر کہا کہ ہم میں وہ قبر عیسی صاحب کی قبر مشہور ہے۔چنانچہ کئی لوگوں نے یہی گواہی دی جو اب تک سری نگر میں زندہ موجود ہیں جس کو شک ہو وہ خود کشمیر میں جا کر کئی لاکھ انسان سے