فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 29 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 29

راز حقیقت 29 فلسطین سے کشمیر تک اخویم شیخ رحمت اللہ صاحب تاجر لا ہور نے ان تمام اخراجات کو اپنے ذمہ قبول کیا ہے۔لیکن اگر یہ سفر جیسا کہ خیال کیا جاتا ہے بنارس اور نیپال اور مدراس اور سوات اور کہ اور مثبت وغیرہ ممالک تک کیا جائے جہاں جہاں حضرت مسیح علیہ السلام کی بود و باش کا پتہ ملا ہے تو کچھ شک نہیں کہ یہ بڑے اخراجات کا کام ہے اور امید کی جاتی ہے کہ بہر حال اللہ تعالیٰ اس کو انجام دے دے گا۔ہر ایک دانش مند سمجھ سکتا ہے کہ یہ ایک ایسا ثبوت ہے کہ اس سے یک دفعہ عیسائی مذہب کا تمام تانا بانا ٹوٹتا ہے اور انیس سو برس کا منصوبہ یکدفعہ کالعدم ہو جاتا ہے۔اس بات کا اطمینان ہو گیا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا اس ملک ہند اور کشمیر وغیرہ میں آنا ایک واقعی امر ہے۔اور اس کے بارے میں ایسے زبر دست ثبوت مل گئے ہیں کہ اب وہ کسی مخالف کے منصوبہ سے چھپ نہیں سکتے۔معلوم ہوتا ہے کہ ان بیہودہ اور غلط عقائد کی اسی زمانہ تک عمر تھی۔ہمارے سید و مولی خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ وہ مسیح موعود جو آنے والا ہے صلیب کو توڑے گا اور آسمانی حربہ سے دجال کو قتل کرے گا۔اس حدیث کے اب یہ معنے کھلے ہیں کہ اُس مسیح کے وقت میں زمین و آسمان کا خدا اپنی طرف سے بعض ایسے امور اور واقعات پیدا کر دے گا جن سے صلیب اور تثلیث اور کفارہ کے عقائد خود بخود نابود ہو جائیں گے مسیح کا آسمان سے نازل ہونا بھی ان ہی معنوں سے ہے کہ اُس وقت آسمان کے خدا کے ارادہ سے کسر صلیب کے لئے بدیہی شہادتیں پیدا ہو جائیں گی۔سو ایسا ہی ہوا۔یہ کس کو معلوم تھا کہ مرہم عیسی کا نسخہ صد ہا طبتی کتابوں میں لکھا ہوا پیدا ہو جائے گا اس بات کی کس کو خبر تھی کہ بدھ مذہب کی پرانی کتابوں سے یہ ثبوت مل جائے گا کہ حضرت عیسی علیہ السلام بلاد شام کے یہودیوں سے نومید ہوکر ہندوستان اور کشمیر اور تبت کی طرف آئے تھے۔یہ بات کون جانتا تھا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی کشمیر میں قبر ہے۔کیا انسان کی طاقت میں تھا کہ ان تمام باتوں کو اپنے زور سے پیدا کر سکتا۔اب یہ واقعات اس طرح سے عیسائی مذہب کو مٹاتے ہیں جیسا کہ دن چڑھ جانے سے رات مٹ جاتی ہے۔اس واقعہ کے ثابت ہونے سے عیسائی مذہب کو وہ صدمہ پہنچتا ہے جو اُس چھت کو پہنچ سکتا ہے جس کا تمام بوجھ ایک شہتیر پر تھا۔شہتیر ٹوٹا اور چھت