فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 22
کتاب البریه 22 فلسطین سے کشمیر تک طبابت کا مذاق رکھنے والے بھی جانتے ہیں یہاں تک کہ قرابادین قادری میں بھی جو ایک فارسی کی کتاب ہے تمام مرہموں کے ذکر کے باب میں اس مرہم کا نسخہ بھی لکھا ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ یہی مرہم حضرت عیسی علیہ السلام کے لئے بنائی گئی تھی۔پس اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہوگا کہ دنیا کے تمام طبیبوں کے اتفاق سے جو ایک گروہ خواص ہے جن کو سب سے زیادہ تحقیق کرنے کی عادت ہوتی ہے اور مذہبی تعصبات سے پاک ہوتے ہیں یہ ثابت ہو گیا ہے کہ یہ مرہم حواریوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی چوٹوں کے لئے طیار کی تھی۔ایک عجیب فائدہ اس مرہم کے واقعہ کا یہ ہے کہ اس سے حضرت عیسی کے آسمان پر چڑھنے کی بھی ساری حقیقت کھل گئی اور ثابت ہو گیا کہ یہ تمام باتیں بے اصل اور بے ہودہ تصورات ہیں۔اور نیز یہ بھی ثابت ہوا کہ وہ رفع جس کا قرآن شریف میں ذکر ہے حقیقت میں وفات کے بعد تھا اور اسی رفع مسیح سے خدا تعالیٰ نے یہودیوں اور عیسائیوں کے اس جھگڑے کا فیصلہ کیا جو صد ہا برس سے ان کے درمیان چلا آتا تھا یعنی یہ کہ حضرت عیسی مردودوں اور ملعونوں سے نہیں ہیں اور نہ کفار میں سے جن کا رفع نہیں ہوتا بلکہ وہ سچے نبی ہیں اور در حقیقت ان کا رفع روحانی ہوا ہے جیسا کہ دوسرے نبیوں کا ہوا۔یہی جھگڑا تھا اور رفع جسمانی کی نسبت کوئی جھگڑا نہ تھا بلکہ وہ غیر متعلق بات تھی جس پر کذب اور صدق کا مدار نہ تھا۔بات یہ ہے کہ یہود یہ چاہتے تھے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو صلیب کا الزام دے کر ملعون ٹھہر اویں یعنی ایسا شخص جس کا مرنے کے بعد خدا کی طرف روحانی رفع نہیں ہوتا اور نجات سے جو قرب الہی پر موقوف ہے بے نصیب رہتا ہے۔سوخدا نے اس جھگڑے کو یوں فیصلہ کیا کہ یہ گواہی دی کہ وہ صلیبی موت جو روحانی رفع سے مانع ہے حضرت مسیح پر ہرگز وارد نہیں ہوئی اور ان کا وفات کے بعد رفع الی اللہ ہو گیا ہے۔اور وہ قرب الہی پا کر کامل نجات کو پہنچ گیا۔کیونکہ جس کیفیت کا نام نجات ہے اسی کا دوسرے لفظوں میں نام رفع ہے اسی کی طرف ان آیات میں اشارہ ہے کہ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ - بَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ الیه افسوس کہ ہمارے بنی فہم علماء پر کہاں تک غباوت اور بلادت وارد ہوگئی ہے کہ وہ یہ النساء : 158 النساء: 159