فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 11 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 11

11 فلسطین سے کشمیر تک سنت اللہ میں داخل ہے مگر وفات کے بعد جسم کا اٹھایا جانا سنت اللہ میں داخل نہیں اور یہ کہنا کہ توفی کے معنی اس جگہ سونا ہے سراسرالحاد ہے کیونکہ صحیح بخاری میں ابن عباس سے روایت ہے کہ متوفیک ممیتک اور اس کی تائید میں صاحب بخاری اسی محل میں ایک حدیث بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لایا ہے پس جو معنی توفی کے ابن عباس اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مقام متنازعہ فیہ میں ثابت ہو چکے اسکے برخلاف کوئی اور معنی کرنا یہی ملحدانہ طریق ہے مسلمان کیلئے اس سے بڑھ کر اور کوئی ثبوت نہیں کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام متنازعہ فیہ میں یہی معنی کئے پس بڑی بے ایمانی ہے جو نبی کریم کے معنوں کو ترک کر دیا جائے اور جبکہ اس جگہ توفی کے معنی قطعی طور پر وفات دینا ہی ہوا تو پھر یہ نہیں کہہ سکتے کہ وفات آئندہ کے زمانہ میں ہوگی کیونکہ آیت فلما تَوَفَّيْتَنِي كُنتَ أَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ لحصاف صاف بتلا رہی ہے کہ وفات ہو چکی وجہ یہ کہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسی جناب الہی میں عرض کرتے ہیں کہ عیسائی میری وفات کے بعد بگڑے ہیں پھر اگر فرض کر لیں کہ اب تک حضرت عیسی فوت نہیں ہوئے تو ساتھ ہی ماننا پڑے گا کہ ابتک عیسائی بھی نہیں بگڑے حالانکہ ان کم بختوں نے عاجز انسان کو خدا بنادیا اور نہ صرف شرک کی نجاست کھائی بلکہ سو رکھانا شراب پیناز نا کرنا سب انہی لوگوں کے حصہ میں آ گیا کیا کوئی دنیا میں بدی ہے جو ان میں پائی نہیں جاتی کیا کوئی ایسا بدکاری کا کام ہے جس میں یہ لوگ نمبر اول پر نہیں۔پس صاف ظاہر ہے کچھ یہ لوگ بگڑ گئے اور شرک اور ناپاکیوں کا جذام ان کو کھا گیا۔اور اسلام کی عداوت نے ان کو تحت الثرمی میں پہنچا دیا اور نہ صرف آپ ہی ہلاک ہوئے بلکہ انکی ناپاک زندگی نے ہزاروں کو ہلاک کیا یورپ میں کتوں اور کتیوں کی طرح زنا کاری ہو رہی ہے شراب کی کثرت شہوتوں کو ایک خطرناک جوش دے رہی ہے اور حرامی بچے لاکھوں تک پہنچ گئے ہیں یہ کس بات کا نتیجہ ہے اسی مخلوق پرستی اور کفارہ کے پر فریب مسئلہ کا۔منہ ست بچن۔روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 301 تا 308) قرآن شریف میں جو وارد ہے وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ یعنی عیسی نہ مصلوب ہوا المائده: 118 النساء : 158