فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 294 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 294

ملفوظات 294 فلسطین سے کشمیر تک مخالف ہے اس لے کہ اویٰ کا لفظ تو اس جگہ استعمال ہوتا ہے جہاں ایک مصیبت کے بعد نجات ملے اور پناہ دی جاوے۔یہ بات اس رومی سلطنت میں رہ کر انہیں کب حاصل ہوسکتی تھی۔وہ تو وہاں رہ سکتے ہی نہ تھے۔اس لیے لازمی طور پر انہوں نے ہجرت کی۔(23 اکتوبر 1907ء) کشمیر میں حضرت مسیح علیہ السلام کی قبر : ( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 388 تا 390) ابوسعید عرب صاحب جو حال میں کشمیر کی سیاحت سے واپس آئے ہیں۔انہوں نے حضرت اقدس (علیہ السلام) کی خدمت میں عرض کی کہ کشمیر کے اندر عام لوگ تو اب تک حضرت عیسی کی قبر کو پہلے کی طرح نبی صاحب کی قبر یا عیسی کی قبر کہتے ہیں مگر وہاں کے علماء جو اس سلسلہ احمدیہ کے حالات سے آگاہ ہو گئے ہیں۔انہوں نے بسبب عداوت اب ایسا کہنا چھوڑ دیا ہے تا کہ اس فرقہ کو مددنہ ملے۔حضرت نے فرمایا:۔اب ان لوگوں کی ایسی کاروائیوں سے کیا بنتا ہے جبکہ پرانی کتابیں جو کشمیر میں اور دوسری جگہوں میں موجود ہیں اور ایک عربی پرانی کتاب گیارہ سو برس کی جو کسی فاضل شیعہ کی تصنیف ہے۔اس میں یوز آسف کو شاہزادہ نبی لکھا ہے اور اس کی قبر کشمیر میں بتلائی ہے اور اس کا وقت بھی وہی لکھا ہے جو کہ حضرت عیسی علیہ السلام کا وقت تھا۔عیسائی بھی تو یہاں تک قائل ہو گئے ہیں کہ وہ حضرت عیسی کا حواری تھا اور اس کے نام پر سسلی میں ایک گر جا بھی بنا ہوا ہے۔لیکن اب سوال یہ ہے کہ وہ حواری کون تھا جو شہزادہ بھی کہلایا ہو اور نبی بھی کہلایا ہو؟ اس کا جواب عیسائی نہیں دے سکتے۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 357)