فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 287 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 287

ملفوظات 287 فلسطین سے کشمیر تک جاتی رہی ہے پھر پنجاب کے متعلق خبر دی حالانکہ اس وقت کوئی مقام اس میں مبتلا نہ تھا۔پھر ایک دم پنجاب کے ۲۳ ضلعوں میں پھیل گئی وہ تمام کتابیں جن میں یہ بیان ہیں خود گورنمنٹ کے پاس موجود ہیں اگر ٹیکہ میں کوئی خیر ہوتی تو خدا خود ہمیں بتلا تا اور ہم اس وقت سب سے پہلے ٹیکہ لگوانے میں اول ہوتے مگر جب گورنمنٹ نے اختیار دیا ہے تو یہ اختیار ہے گویا خدا تعالیٰ ہی نے ہمیں دیا ہے کہ جبرا اٹھوا دیا ہے۔( 8 نومبر 1902ء) کشمیر سے ایک پرانے صحیفہ کی برآمدگی : ( ملفوظات جلد دوم صفحه 406) اس کے بعد مولوی محمد علی صاحب نے ایک خط سنایا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ کشمیر سے ایک پرانا صحیفہ ایک پادری نے حاصل کیا ہے کہ جو کہ دو ہزار سال کا ہے اس میں مسیح کی آمد اور اس کے نجی ہونے کی پیش گوئی ہے حضرت اقدس نے فرمایا کہ بعض وقت پادری لوگ عیسوی مذہب کی عظمت دل نشین کرانے کے واسطے ایسی مصنوعات سے کام لیتے ہیں۔ہمارے نزدیک اس کا معیار یہ ہے کہ اگر اس صحیفہ میں تثلیث کا ذکر ہو تو سمجھنا چاہئے کہ مصنوعی ہے کہ کیونکہ خود عیسویت کی ابتدا میں تثلیث کا عقیدہ نہ تھا بلکہ بعد میں وضع ہوا ہے۔(ملفوظات جلد دوم صفحه 504) (18 نومبر 1902ء) ایک عظیم الشان رویا : فجر کی نماز کے بعد فرمایا کہ نماز فجر سے کوئی ہیں یا چھپیس منٹ پیشتر میں نے خواب دیکھا کہ گویا ایک زمین خرید لی ہے کہ اپنی جماعت کی میتیں وہاں دفن کیا کریں تو کہا گیا کہ اس کا نام بہشتی مقبرہ ہے جو اس میں دفن ہوگا بہشتی ہوگا۔