فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 285 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 285

ملفوظات 285 فلسطین سے کشمیر تک ہیں جس میں ظاہر کیا گیا تھا کہ بعض کا غذات اس قسم کے ہیں۔جن میں پطرس لکھتا ہے کہ میں نے مسیح کی وفات کے تین سال بعد ان کو لکھا ہے۔اور اب میری عمر ۹۰ سال کی ہے۔گویا مسیح نے جب وفات پائی ، تو پطرس کی عمر ۸۷ سال کی ہوئی اور واقعہ صلیب کے وقت پطرس کی عمر تیں اور چالیس کے درمیان بتائی جاتی ہے۔تو اب اس سے صاف نتیجہ نکلتا ہے کہ مسیح واقعہ صلیب کے بعد کم از کم ۴۷ سال تک بموجب اس تحریر کے زندہ رہا۔اور پطرس ان کے ساتھ رہا۔اور یہ ثابت ہو گیا کہ صلیب پر مسح نہیں مراء، بلکہ طبعی موت سے مرا ہے اور نہ آسمان پر اس جسم کے ساتھ اٹھایا گیا، کیونکہ راس الحوار بین پطرس اس کی موت کا اعتراف کرتا ہے اور موت کا وقت دیتا ہے۔مفتی صاحب نے یہ عظیم الشان خوشخبری حضرت کو سنائی۔پھر نماز مغرب ادا ہوئی۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 312 تا 313) مبارک بشارت: اب بہتر ہے کہ اس کے پیچھے ایک مبارک بشارت لکھ دی جاوے کہ عیسائیوں کے محققین کی تحریروں سے ثابت ہو گیا ہے کہ حضرت عیسی صلیب کے واقعہ کے بعد بھی زندہ رہے جیسا کہ پطرس کی اس تحریر سے جو ملی ہے معلوم ہوا۔اس تحقیقات سے ہر ایک محقق کو خوش ہونا چاہیے، کیونکہ یہ ان کا غذات سے ثابت ہوئی ہے جو مسیح کے خاص حواری پطرس کے لکھے ہوئے ہیں۔دنیا میں اس وقت ایک عام تحریک ہورہی ہے اور آئے دن ایک نہ ایک بات ہماری تصدیق اور تائید میں نکلتی آتی ہے۔یہ خدا کا کام ہے۔اب دیکھ لو کہ یہ کا غذ نکل آئے ہیں جو پطرس کے لکھے ہوئے ہیں۔ہماری جماعت ان کو پڑھ کر خوش ہو گی اور ان کا ایمان بڑھے گا۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 314)