فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 284 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 284

ملفوظات 284 فلسطین سے کشمیر تک سلیم الفطرت انسان کے سامنے پیش کی جاویں، تو اُسے صاف اقرار کرنا پڑتا ہے کہ مسیح صلیب پر نہیں مرا۔اس لیے کفارہ جو عیسائیت کا اصل الاصول ہے ، بالکل باطل ہے۔(14 جون 1902ء) مسیح کی قبر کی اشاعت یورپ میں : ( ملفوظات جلد دوم صفحه 128) یورپ اور دوسرے ملکوں میں ہم ایک اشتہار شائع کرنا چاہتے ہیں جو بہت ہی مختصر ایک چھوٹے سے صفحے کا ہوتا کہ سب اُسے پڑھ لیں۔اس کا مضمون اتنا ہی ہو کہ مسیح کی قبر سرینگر کشمیر میں ہے۔جو واقعات صحیحہ کی بناء پر ثابت ہو گئی ہے۔اس کے متعلق مزید حالات اور واقفیت اگر کوئی معلوم کرنا چاہے تو ہم سے کر لے۔اس قسم کا اشتہار ہوجو بہت کثرت سے چھپوا کر شائع کیا جاوے۔(5اکتوبر 1902ء) ( ملفوظات جلد دوم صفحه 219) واقعہ صلیب کے بعد مسیح کی زندگی کے متعلق پطرس کی شہادت قبل نما ز مغرب جب حضرت جری اللہ فی حلل الانبیاء علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لائے تو رڑکی سے آئے ہوئے احباب ملے جو برات میں گئے تھے۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے (جو حضرت اقدس کے سلسلہ میں ایک درخشندہ گوہر ہیں اور جو عیسائیوں کی کتابوں کو پڑھ کر ان میں سے سلسلہ عالیہ کے مفید مطلب مضامین کے اقتباس کرنے کا بے حد شوق اور جوش رکھتے ہیں ) پطرس کے متعلق سنایا کہ رڑکی میں پادریوں سے مل کر میں نے اس سوال کو حل کیا ہے۔معلوم ہوا ہے کہ صلیب کے وقت پطرس کی عمر ۳۰ یا ۴۰ سال کے درمیان تھی۔ناظرین کو اس سوال ” عمر پطرس کی ضرورت کے لیے ہم الحکم کا وہ نوٹ یاد دلاتے