فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 283 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 283

ملفوظات 283 فلسطین سے کشمیر تک ادھر چلے آئے۔اور پھر آخر کشمیر ہی میں انہوں نے وفات پائی۔اور یہ بات انگریز محققوں نے بھی مان لی ہے کہ کشمیری در اصل بنی اسرائیل ہیں چنانچہ برٹئیر نے اپنے سفر نامہ میں یہی لکھا ہے اب جبکہ یہ ثابت ہوتا ہے اور واقعات صحیحہ کی بناء پر ثابت ہوتا ہے کہ وہ صلیب پر نہیں مرے بلکہ زندہ اتر آئے ہیں تو کفارہ کا کیا باقی رہ جاتا ہے۔پھر سب سے عجیب تر تو یہ بات ہے کہ عیسائی جس عورت کی شہادت سے مسیح کو آسمان پر چڑھاتے ہیں وہ خود ایک اچھے اور شریف چال چلن کی عورت نہ تھی۔الوہیت مسیح : ( تقریر 27 دسمبر 1901ء) ( ملفوظات جلد دوم صفحه 76 تا 77) اب کسر صلیب کے سامان کثرت سے پیدا ہو گئے ہیں اور عیسائی مذہب کا باطل ہونا ایک بدیہی مسئلہ ہو گیا ہے۔جس طرح پر چور پکڑا جاتا ہے تو اول اول وہ کوئی اقرار نہیں کرتا اور پتہ نہیں دیتا مگر جب پولیس کی تفتیش کامل ہو جاتی ہے تو پھر ساتھی بھی نکل آتے ہیں اور عورتوں بچوں کی شہادت بھی کافی ہو جاتی ہے۔کچھ کچھ مال بھی برآمد ہو جاتا ہے۔تو پھر اس کو بے حیائی سے اقرار کرنا پڑتا ہے کہ ہاں میں نے چوری کی ہے۔اسی طرح پر عیسائی مذہب کا حال ہوا ہے۔صلیب پر مرنا لیسوع کو کا ذب ٹھہراتا ہے۔لعنت دل کو گندہ کرتی اور خدا سے قطع تعلق کرتی ہے۔اور اپنا قول کہ یونس کے معجزہ کے سوا اور کوئی معجزہ نہ دیا جاوے گا۔باقی معجزات کو رد کرتا اور صلیب پر مرنے سے بچنے کو معجزہ ٹھہراتا ہے۔عیسائی تسلیم کرتے ہیں کہ انجیل میں کچھ حصہ الحاقی بھی ہے۔یہ ساری باتیں مل ملا کر اس بات کا اچھا خاصہ ذخیرہ ہیں جو یسوع کی خدائی کی دیوار کو جو ریت پر بنائی گئی تھی بالکل خاک سے ملا دیں اور سرینگر میں اس کی قبر نے صلیب کو بالکل تو ڑ ڈالا۔مرہم عیسی اس کے لیے بطور شاہد ہو گئی۔غرض یہ ساری باتیں جب ایک خوبصورت ترتیب کے ساتھ ایک دانشمند