فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 282
ملفوظات 282 فلسطین سے کشمیر تک اول یہ کہ خود مسیح نے اپنی مثال یونس سے دی ہے کیا یونس مچھلی کے پیٹ میں زندہ داخل ہوئے تھے یا مرکز اور پھر یہ کہ پیلاطوس کی بیوی نے ایک ہولناک خواب دیکھا تھا جس کی اطلاع پیلاطوس کو بھی اس نے کر دی اور وہ اس فکر میں ہو گیا کہ اس کو بچایا جاوے اور اسی لیے پیلاطوس نے مختلف پیرایوں میں مسیح کو چھوڑ دینے کی کوشش کی اور آخر کار اپنے ہاتھ دھوکر ثابت کیا کہ میں اس سے بری ہوں۔اور پھر جب یہودی کسی طرح ماننے والے نظر نہ آئے تو یہ کوشش کی گئی کہ جمعہ کے دن بعد عصر آپ کو صلیب دی گئی اور چونکہ صلیب پر بھوک پیاس اور دھوپ وغیرہ کی شدت سے کئی دن رہ کر مصلوب انسان مر جایا کرتا تھا وہ موقعہ مسیح کو پیش نہ آیا کیونکہ یہ کسی طرح نہیں ہو سکتا تھا کہ جمعہ کے دن غروب ہونے سے پہلے اسے صلیب پر سے نہ اتار لیا جاتا کیونکہ یہودیوں کی شریعت کی رو سے یہ سخت گناہ تھا کہ کوئی شخص سبت یا سبت سے پہلے رات پر رہے۔مسیح چونکہ جمعہ کی آخری گھڑی صلیب چڑھایا گیا تھا اس لئے بعض واقعات آندھی وغیرہ کے پیش آجانے سے فی الفورا تارلیا گیا پھر دو چور جو مسیح کے ساتھ صلیب پر لٹکائے گئے تھے ان کی ہڈیاں توڑی گئیں مگر مسیح کی ہڈیاں نہیں تو ڑی گئیں۔پھر مسیح کی لاش ایک ایسے آدمی کے سپرد کر دی گئی جو مسیح کا شاگر د تھا اور اصل تو یہ ہے کہ خود پیلاطوس اور اس کی بیوی بھی اس کی مرید تھی چنانچہ پلاطوس کو عیسائی شہیدوں میں لکھا ہے اور اس کی بیوی کو ولیہ قرار دیا گیا اور ان سب سے بڑھ کر مرہم عیسی کا نسخہ ہے جس کو مسلمان، یہودی، رومی اور عیسائی اور مجوسی طبیبوں نے بلا اتفاق لکھا ہے کہ مسیح کے زخموں کے لیے تیار ہوا تھا اور اس کا نام مرہم عیسی ، مرہم حوار بین اور مرہم رسل اور مرہم شلیہ وغیرہ بھی رکھا۔کم از کم ہزار کتاب میں یہ نسخہ موجود ہے اور یہ کوئی عیسائی ثابت نہیں کرسکتا کہ صلیبی زخموں کے سوا اور بھی کوئی زخم مسیح کو لگے تھے۔اور اس وقت حواری بھی موجود تھے۔اب بتاؤ کہ کیا یہ تمام اسباب اگر ایک جا جمع کیے جاویں، تو صاف شہادت نہیں دیتے کہ صلیب پر زندہ بیچ کر اتر آیا تھا۔اس پر اس وقت ہمیں کوئی لمبی بحث نہیں کرنی ہے یہودیوں کے جو فرقے متفرق ہو کر افغانستان یا کشمیر میں آگئے تھے وہ ان کی تلاش میں