فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 281
ملفوظات 281 فلسطین سے کشمیر تک بات بہت صاف ہے اور غور کرنے کے بعد اس میں کوئی شبہ نہیں رہتا۔“ انسان کا فرض: سوال: آپ کی سمجھ میں عیسائیوں کا کیا فرض ہے؟ جواب: ہر ایک انسان کا فرض یہ ہونا چاہئے کہ حق کی تلاش کرے اور حق جہاں اسے ملے اس کو فورا لے لے ، عیسائیوں کی کوئی خصوصیت نہیں ہے۔اس کے بعد پادریوں نے مکرر حضرت اقدس کا شکر یہ ادا کیا اور پھر کتب خانہ حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام اور دفتر اخبار الحکم سے کچھ کتابیں لیں اور واپس چلے گئے۔کسر صلیب: (22 دسمبر 1901ء) ( ملفوظات جلد اول صفحه 500 تا 505) عیسائی مذہب کے استیصال کے لئے ہمارے پاس تو ایک دریا ہے اب وقت آ گیا ہے کہ یہ طلسم ٹوٹ جاوے اور وہ بت جو صلیب کا بنایا گیا ہے گر پڑے اور اصل بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالی اگر مجھے مبعوث نہ بھی فرما تا تب بھی زمانہ نے ایسے حالات اور اسباب پیدا کر دیئے تھے کہ عیسائیت کا پول کھل جاتا۔کیونکہ خدا تعالی کی غیرت اور جلال کے یہ صریح خلاف ہے کہ ایک عورت کا بچہ خدا بنایا جا تا جوانسانی حوائج اور لوازم بشریہ سے کچھ بھی استثناءاپنے اندر نہیں رکھتا۔میں نے ایک کتاب لکھی ہے جس میں نے کامل تحقیقات کے ساتھ یہ ثابت کر دیا ہے کہ یہ بالکل جھوٹ ہے کہ مسیح صلیب پر مر گیا ہے اصل بات یہ ہے کہ وہ صلیب سے زندہ اتارا گیا اور وہاں سے بیچ کر وہ کشمیر میں چلا آیا جہاں اس نے ۱۲۰ سال کی عمر میں وفات پائی۔اور اب تک اس کی قبر خانیار کے محلہ میں یوز آسف یا شہزادہ نبی کے نام سے مشہور ہے۔اور یہ بات ایسی نہیں ہے جو محکم اور مستحکم دلائل کی بناء پر نہ ہو بلکہ صلیب کے جو واقعات انجیل میں لکھے ہیں خود انہیں سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح صلیب پر نہیں مرا سب سے