فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 280 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 280

ملفوظات 280 فلسطین سے کشمیر تک حضرت اقدس : ”یہ تو ہمارا فرض منصبی ہے جس کام کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہم کو بھیجا ہے۔اس کو کرنا ضروری ہے“ (حضرت اقدس حجتہ اللہ کی یہ تقریرین کر مسٹر فضل نے ( جو غالبا لا ہور کی بک سوسائٹی میں ملازم ہیں اپنی قابلیت کے اظہار کے لئے زبان کھولی لیکن اس سے بہتر ہوتا کہ وہ خاموش رہتے اور ان کی دانش اور غور طلب طبیعت کا راز نہ کھلتا۔حضرت اقدس نے اس قدر طول طویل تقریر یوز آسف کے متعلق فرمائی اور اس کو تاریخی شہادتوں کے ساتھ موکد فر مایا۔مگر مسٹر فضل کے سوال پر نگاہ کی جائے کہ آپ کیا فرماتے ہیں) مسر فضل : قبر کے متعلق کوئی تاریخی ثبوت ملا ہے؟ حضرت اقدس نے فرمایا کہ گیارہ سو برس کی کتاب موجود ہے۔خود عیسائیوں میں اس کا گر جا موجود ہے۔وہاں میلہ ہوتا ہے اور ابھی آپ تاریخی ثبوت ہی پوچھتے ہیں۔یہ کیا ہے؟ یہ تاریخی ثبوت نہیں تو کیا ہے؟ اور یہ بھی فرمایا کہ تم لوگ کچھ نہیں سمجھتے۔صرف دھوکا دینا چاہتے ہو۔میں ہر انسان کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ پاک دل بنے۔ریا کاری اور تعصب سے اپنے دل کوصاف کرے اور جہاں سے صداقت اور حکمت کی بات ملے، اس کو نہایت فراخدلی کے ساتھ قبول کرے۔میں ہر وقت سنے کو تیار ہوں۔اگر آپ صفائی سے جواب دیں کہ مسیح کے اس حواری کو اس وجہ سے شہزادہ نبی کہتے ہیں۔اور اگر آپ کوئی جواب نہ دیں اور جواب ہے بھی نہیں اور صرف اعتقادی طور پر بتائیں کہ ہم ایسا مانتے ہیں تو یہ ایسی بات ہے جیسے کسی ہندو سے پوچھیں کہ تم جو کہتے ہیں کہ گنگا مہادیو کی جنوں سے نکلتی ہے یا اس میں ست ہے اور اس کے جواب میں صرف یہی کہے کہ میں اس کے دلائل تو نہیں دے سکتا، مگر ضرور مانتا ہوں کہ اس میں ست ہے، تو یہ معقول بات نہ ہو گی۔غرض میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں نے نہ اعتقاد کے طور پر بلکہ تحقیقات سے ثابت کر لیا ہے کہ یہ قبر واقعی حضرت مسیح ہی کی قبر ہے۔واقعات اس کی تصدیق کرتے ہیں، تاریخ اس کی شہادت دیتی ہے۔جرمنی میں ایسے مسیحی بھی ہیں جو اس بات کے قائل ہیں کہ حضرت مسیح" صلیب پر نہیں مرے۔یہ