فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 277
ملفوظات 277 فلسطین سے کشمیر تک حالت بجائے خود موت ہوتی ہے۔دیکھو سکتہ کی حالت میں نہ نبض رہتی ہے نہ دل کا مقام حرکت کرتا ہے۔بالکل مُردہ ہی ہوتا ہے۔مگر پھر وہ زندہ ہو جاتا ہے۔مسیح کے نہ مرنے کے دو بڑے زبر دست گواہ ہیں۔اول تو یہ ہے کہ یہ ایک نشان اور معجزہ تھا۔ہم نہیں چاہتے کہ اس کی کسر شان کی جائے اور وہ آدمی سخت حقارت اور نفرت کے لائق ہے جو اللہ تعالیٰ کے نشانات کو حقیر سمجھ لیتا ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ ہمارے نبی کریم ﷺ اس کی تصدیق نہیں کرتے کہ وہ صلیب پر مرے ہیں بلکہ صلیب پر سے زندہ اتر آئے اور پھر اپنی طبعی موت سے مرنے کی تصدیق فرماتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی اگر انجیل کی ساری باتوں کو جو اس واقعہ صلیب کے متعلق ہیں یکجائی نظر سے دیکھیں ، تو صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ بات ہر گز صحیح نہیں ہے کہ مسیح صلیب پر مرے ہوں۔حواریوں کو ملنا، زخم دکھانا ، کباب کھانا، سفر کرنا۔یہ سب امور ہیں جو اس بات کی نفی کرتے ہیں ؛ اگر چہ خوش اعتقادی سے ان واقعات کی کچھ بھی تاویل کیوں نہ کی جاوے، لیکن ایک منصف مزاج کہہ اٹھے گا کہ زخم لگے رہے اور کھانے کے محتاج رہے یہ زندہ آدمی کے واقعات ہیں۔یہ واقعات اور صلیب کے بعد کے دوسرے واقعات گواہی دیتے ہیں اور تاریخ شہادت دیتی ہے کہ دو تین گھنٹہ سے زیادہ صلیب پر نہیں رہے اور وہ صلیب اس قسم کی نہ تھی جیسے آج کل پھانسی ہوتی ہے جس پر لٹکاتے ہی دو تین منٹ کے اندر ہی کام تمام ہو جاتا ہے، بلکہ اس میں تو کیل وغیرہ ٹھونک دیا کرتے تھے۔اور کئی دن زندہ رہ کر انسان بھوکا پیاسا مر جاتا تھا۔مسیح کے لئے اس قسم کا واقعہ پیش نہیں آیا۔وہ صرف دو تین گھنٹہ کے اندر ہی صلیب سے اتار لئے گئے۔یہ تو وہ واقعات ہیں جو انجیل میں موجود ہیں۔جو مسیح کے صلیب پر نہ مرنے کے لئے زبردست گواہ ہیں۔پھر ایک اور بری شہادت ہے جو اس کی تائید میں ہے۔وہ مرہم عیسی ہے۔جو طب کی ہزاروں کتابوں میں برابر درج ہے اور اس کے متعلق لکھا گیا ہے کہ یہ مرہم عیسی کے زخموں کے واسطے حواریوں نے تیار کی تھی۔یہودیوں، عیسائیوں کی طبی کتابوں میں اس مرہم کا ذکر موجود ہے۔پھر یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ وہ صلیب پر مر گئے تھے۔ان سب باتوں کے علاوہ ایک اور امر پیدا ہو گیا ہے جس نے قطعی طور سے ثابت کر دیا ہے کہ مسیح کا صلیب