فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 273
ملفوظات 273 فلسطین سے کشمیر تک حقیقت میں کوئی قوم اور جماعت تیار نہیں ہو سکتی۔جب تک کہ اس میں اپنے امام کی اطاعت اور اتباع کے لئے اس قسم کا جوش اور اخلاص اور وفا کا مادہ نہ ہو۔حضرت مسیح علیہ السلام کو جو مشکلات اور مصائب اٹھانے پڑے۔اور ان کے عوارض اور اسباب میں سے جماعت کی کمزوری اور بیدلی بھی تھی ، چنانچہ جب ان کو گرفتار کیا گیا، تو پطرس جیسے اعظم الحوار بین نے اپنے آقا اور مرشد کے سامنے انکار کر دیا اور نہ صرف انکار کیا، بلکہ تین مرتبہ لعنت بھی بھیج دی۔اور اکثر حواری ان کو چھوڑ کر بھاگ گئے۔اس کے برخلاف آنحضرت ﷺ کے صحابہ نے وہ صدق و وفا کا نمونہ دکھایا، جس کی نظیر دنیا کی تاریخ میں نہیں مل سکتی ، انہوں نے آپ کی خاطر ہر قسم کا دکھ اٹھا نا سہل سمجھا۔یہاں تک کہ عزیز وطن چھوڑ دیا اپنے املاک و اسباب اور احباب سے الگ ہو گئے اور بالآخر آپ کی خاطر جان تک دینے سے تامل اور افسوس نہیں کیا۔یہی صدق اور وفا تھی جس نے ان کو آخر کار با مراد کیا۔اسی طرح میں دیکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے میری جماعت کو بھی اس کی قدر اور مرتبہ کے موافق ایک جوش بخشا ہے اور وہ وفا دوری اور صدق کا نمونہ دکھاتے ہیں۔جس دن سے میں نے نصیبین کی طرف ایک جماعت کے بھیجنے کا ارادہ کیا ہے۔ہر ایک شخص کوشش کرتا ہے کہ اس خدمت پر مامور کیا جائے اور دوسرے کو رشک کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور آرزو کرتا ہے کہ اس کی جگہ اگر اس کو بھیجا جائے۔تو اس کی بڑی ہی خوش قسمتی ہے۔بہت سے احباب نے اس سفر پر جانے کے لئے اپنے آپ کو پیش کیا، لیکن میں ان درخواستوں سے پہلے مرزا خدا بخش صاحب کو اس سفر کے واسطے منتخب کر چکا تھا اور مولوی قطب الدین اور میاں جمال دین کو ان کے ساتھ جانے کے واسطے تجویز کر لیا تھا۔اس واسطے مجھے ان احباب کی درخواستوں کو رد کرنا پڑا۔تاہم میں جانتا ہوں کہ وہ لوگ جنھوں نے بصد مشکل اور سچے اخلاص کے ساتھ اپنے آپ کو اس خدمت کے لئے پیش کیا ہے۔اللہ تعالیٰ ان کی پاک نیتوں کے ثواب کو ضائع نہیں کرے گا اور وہ اپنے اخلاص کے موافق اجر پائیں گے۔خدا تعالیٰ کی خاطر سفر کی عظمت : دور دراز بلا داور ممالک غیر کا سفر آسان امر نہیں ہے؛ اگر چہ یہ سچ ہے کہ اس وقت سفر آسان ہو گئے ہیں۔لیکن پھر بھی یہ کس کو علم ہو سکتا