فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 272 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 272

ملفوظات 272 فلسطین سے کشمیر تک قدر ثبوت اور دلائل اور مل سکیں۔وہ اچھا ہے۔اس مقصد کے لیے یہ تقریب پیش آئی ہے کہ ہم اپنے دوستوں کو صیبین کی طرف بھیجتے ہیں۔جس کے متعلق ہمیں پتہ ملا ہے کہ وہاں کے حاکم نے حضرت مسیح کو (جبکہ وہ اپنی ناشکر گزار قوم کے ہاتھ سے تکلیفیں اٹھا رہے تھے۔لکھا تھا کہ آپ میرے پاس چلے آئیے اور واقعہ صلیب سے بچ جانے کے بعد اس مقام پر پہنچ کر انہوں نے بد قسمت قوم کے ہاتھ سے نجات پائی۔وہاں کے حاکم نے یہ بھی لکھا تھا کہ آپ میرے پاس آجائیں گے تو آپ کی خدمت کی سعادت حاصل کروں گا اور میں بیمارہوں میرے لیے دُعا بھی کریں) اگر چہ یہ امر ہمیں ایک انگریزی کتاب سے معلوم ہوا ہے لیکن میں دیکھتا ہوں کہ روضتہ الصفا جو ایک اسلامی تاریخ ہے۔اس قسم کا مفہوم اس سے بھی پایا جاتا ہے۔اس لیے یہ یقین ہوتا ہے کہ حضرت مسیح نصیبین میں ضرور آئے اور اسی راستے سے وہ ہندوستان کو چلے آئے۔سارا علم تو اللہ تعالیٰ کو ہے لیکن ہمارا دل تو گواہی دیتا ہے کہ اس سفر سے انشاء اللہ حقیقت کھل جائے گی اور اصل معاملہ صاف ہو جائے گا۔ممکن ہے کہ اس سفر میں ایسی تحریریں پیش ہو جاویں یا ایسے کتبے نکل آویں، جو حضرت مسیح علیہ السلام کے اس سفر کے متعلق بعض امور پر روشنی ڈالنے والے ہوں یا حواریوں میں سے کسی کی قبر کا کوئی پتہ چل جائے یا اور اس قسم کے بعض امور نکل آویں، جو ہمارے مقصد میں موید ثابت ہوسکیں، اس لئے میں نے اپنی جماعت میں سے تین آدمیوں کو اس سفر کے لئے تیار کیا ہے۔ان کے لئے ایک عربی تصنیف بھی میں کرنی چاہتا ہوں ، جو بطور تبلیغ کے ہو اور جہاں جہاں وہ جاویں۔اس کو تقسیم کرتے رہیں اس طرح اس سفر سے یہ بھی فائدہ ہوگا کہ ہمارے سلسلے کی اشاعت بھی ہوتی جائے گی۔ایک مخلص اور وفا دار جماعت: اور میں خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے ایک مخلص اور وفادار جماعت عطا کی ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ جس کام اور مقصد کے لئے میں ان کو بلاتا ہوں۔نہایت تیزی اور جوش کے ساتھ ایک دوسرے سے پہلے اپنی ہمت اور توفیق کے موافق آگے بڑھتے ہیں اور میں دیکھتا ہوں کہ ان میں ایک صدق اور اخلاص پایا جاتا ہے میری طرف سے کسی امر کا ارشاد ہوتا ہے اور وہ تعمیل کے لئے تیار۔