فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 6 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 6

ست بچن 6 فلسطین سے کشمیر تک نسبت کی وجہ سے کہتے ہیں یعنی اس بلدہ قدیمہ کی طرف منسوب کر کے سور یہ نام رکھتے ہیں پھر سور سے یا فا تک ایک منزل کبیر ہے اور یا فا بحر کے کنارے پر ہے اور یافا سے قدس تک ایک چھوٹی سی منزل ہے اور اب یا فا سے قدس تک ریل طیار ہو گئی ہے۔اور اگر ایک مسافر یافا سے قدس کی طرف سفر کرے تو ایک گھنٹہ سے پہلے پہنچ جاتا ہے۔سو اس حساب سے طرابلس سے قدس تک نو دن کا سفر آرام کے ساتھ ہے مگر سمندر کا راہ نہایت قریب ہے۔اور اگر انسان اگن بوٹ میں بیٹھ کر طرابلس سے قدس کو جانا چاہے تو یافا تک صرف ایک دن اور رات میں پہنچ جائے گا اور یافا سے قدس تک صرف ایک گھنٹہ کے اندر۔والسلام۔خدا آپ کو سلامت رکھے اور نگہبان اور مددگار ہو اور دشمنوں پر فتح بخشے۔آمین۔منہ اتمام الحجہ۔روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 297 تا 300 حاشیہ) ست بچن ( 1895ء) مرہم حوار تین جس کا دوسرا نام مرہم عیسی بھی ہے یہ مرہم نہایت مبارک مرہم ہے جو زخموں اور جراحتوں اور نیز زخموں کے نشان معدوم کرنے کے لئے نہایت نافع ہے۔طبیبوں کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ مرہم حواریوں نے حضرت عیسی کے لئے تیار کی تھی یعنی جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہود علیہم اللعنت کے پنجہ میں گرفتار ہو گئے اور یہودیوں نے چاہا کہ حضرت مسیح کو صلیب پر کھینچ کر قتل کریں تو انہوں نے گرفتار کر کے صلیب پر کھینچنے کی کارروائی شروع کی مگر خدا تعالیٰ نے یہود کے بد ارادہ سے حضرت عیسی کو بچالیا۔کچھ خفیف سے زخم بدن پر لگ گئے سو وہ اس عجیب و غریب مرہم کے چند روز استعمال کرنے سے بالکل دور ہو گئے یہاں تک کہ نشان بھی جو دوبارہ گرفتاری کیلئے کھلی کھلی علامتیں تھیں بالکل مٹ گئے۔یہ بات انجیلوں سے بھی ثابت ہوتی ہے کہ جب حضرت مسیح نے صلیب سے نجات پائی کہ جو در حقیقت دوبارہ زندگی کے حکم میں تھی تو وہ اپنے حواریوں کو ملے اور اپنے زندہ سلامت ہونے کی خبر دی۔حواریوں نے تعجب سے