فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 251
ریویو آف ریلیجنز 251 فلسطین سے کشمیر تک ہندوستان میں انہیں دنوں میں ایک شاہزادہ نبی آیا تھا جو آخرسری نگر کشمیر میں فوت ہوا اور پھر انہیں ایام میں تھو ما حواری اور ایک یسوع کا بھائی بھی ہندوستان میں آیا تھا اور پھر دوسری طرف اس بات کو نہیں مانتے کہ وہ جو شاہزادہ نبی کہلاتا تھا اور بیان کرتا تھا کہ میرے پر انجیل نازل ہوئی ہے وہی یسوع مسیح ہے یہ واقعات بہت ہی صاف تھے اور ان کا نتیجہ بھی بہت ہی صاف تھا مگر ہائے افسوس کہ پادری صاحبوں نے تاریکی سے پیار کیا اور نور سے دشمنی۔دنیا اپنی انتہا تک پہنچ گئی اور ساری علامتیں پوری ہو گئیں مگر ان کا فرضی مسیح اب تک آسمان سے نازل نہ ہوا۔آدم سے لے کر اس وقت تک چھٹا ہزار ختم ہو چکا جو الہی شریعتوں کی اصطلاح میں چھٹا دن کہلاتا ہے جس میں مسیح موعود نے آنا تھا مگر ان کا یسوع اب تک نہ آیا۔شیطان کے رہا ہونے پر ایک ہزار برس بھی گزر گیا مگر ان کا یسوع اب تک نہ آیا جو شیطان کو دائمی قید کے زنداں میں روکتا جیسا کہ نبیوں نے پیشگوئی کی تھی ملک میں طاعون بھی پھیل گئی جیسا کہ انجیل میں آنے والے مسیح کا نشان لکھا تھا مگر اب تک ان کا مسیح نہ آیا۔مدت ہوئی کہ آنے والے مسیح کا ستارہ بھی نکل چکا مگر اب تک مسیح نہ آیا۔پس اے یورپ اور اے ایشیا کے رہنے والے عیسائیو۔اور اے حق کے طالبو یقیناً سمجھو کہ مسیح جو آنے والا تھا وہ آپکا اور وہ وہی ہے جو اب تم سے باتیں کر رہا ہے۔آسمان نے نشان ظاہر کئے اور زمین نے بھی اور خدا کے پاک نبیوں کی پیشگوئیاں نشان کے طور پر آج پوری ہو گئیں اور خدا نے میرے ہاتھ پر نشان دکھلانے کی کچھ کمی نہیں رکھی۔ہزار ہانشان ظاہر کئے ہر ایک پہلو سے اپنی حجت کو پورا کیا اور میں سچ سچ کہتا ہوں کہ یہ نشان جو میرے ہاتھ پر دکھلائے گئے اگر یسوع ابن مریم کے ہاتھ پر دکھلائے جاتے تو یہود ہلاکت سے بچائے جاتے مگر وہی جو ہلاکت کے فرزند تھے۔یسوع کے نشانوں کا جو یہود پر اثر پڑا تھا کس کو اس کی خبر نہیں خود اس کا اپنا حواری یہودا اسکر یوطی جس کو بہشتی تخت کا وعدہ بھی دیا گیا تھا خود اس کے دیکھتے دیکھتے مرتد ہو گیا اور نہ خود وہ حواری تخت موعود سے محروم رہ گیا بلکہ یسوع کو بھی بڑی بلا میں ڈال گیا۔سواے وہ لو گو جو دائمی سعادت اور ابدی نجات کو چاہتے ہو میری طرف دوڑا کہ اس جگہ وہ چشمہ ہے جو تمہیں پرانی میلوں سے پاک کر دے گا اور وہ