فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 250
ریویو آف ریلیجنز 250 فلسطین سے کشمیر تک دراز ملک سے کشمیر میں آیا تھا تو تعجب کہ وہ قریب ہو کر پھر کیوں دور چلا جاتا ہے۔سچ تو یہ ہے کہ اگر ان واقعات اور دلائل میں سے جو ہم نے ہمیشہ پیش کئے ہیں ایک بھی پیش نہ کیا جاتا تب بھی عقل سلیم کا یہی فتویٰ تھا کہ یسوع ابن مریم آسمان پر ہرگز نہیں گیا وہ ہمیشہ انسانوں کی طرح کمزوریاں دکھلاتا رہا اور بسا اوقات اس نے ماریں کھائیں اور جب شیطان نے اسے کہا کہ اوپر سے اپنے تئیں گرا دے تو وہ اپنے تئیں نیچے نہ گر اسکا اور کوئی امر اس میں ایسا نہ تھا جو انسان سے بڑھ کر شمار کیا جائے۔بلکہ بعض نبیوں نے اس سے بڑھ کر معجزات دکھلائے پھر یہ امر بغیر عقلی دلائل اور یقینی براہین کے کیونکر مان لیا جائے کہ وہ در حقیقت آسمان پر چڑھ گیا تھا اور اب تک زندہ موجود ہے اور اگر آسمان پر چڑھنا ممکن بھی ہو تب بھی اس کے لئے ناجائز بلکہ ایک جرم کا ارتکاب تھا کیونکہ ابھی وہ اپنے فرض تبلیغ کو تمام نہیں کر چکا تھا اور یہود کے اور بہت سے فرقے ہنوز اور اور ملکوں میں ایسے تھے جنہوں نے مسیح کا نام بھی نہیں سنا تھا جن کو پیغام پہنچانا باقی تھا اور آسمان پر تو یہود کی کوئی قوم آباد نہیں تھی تا یہ کہا جائے کہ آسمان پر بھی ان کا جانا ضروری تھا پس جیسے کہ یہ امر نا معقول ہے کہ یسوع نے صلیب کو اپنے لئے پسند کیا اور خود کشی کو روا رکھا ایسا ہی یہ بھی نامعقول ہے کہ وہ اب تک ایک عمدہ زمانہ اپنی زندگی کا محض بریکاری سے گزار رہا ہے حالانکہ اس کو چاہئے تھا کہ اپنے اس وقت عزیز کو اپنی قوم کی ہمدردی میں خرچ کرتا نہ یہ کہ ایسی بیہودہ حرکتیں کہ دوسروں کے لئے خود کشی کرے اور پھر زندہ ہو کر آسمان پر جا بیٹھے۔پس ایک عقلند بجز اس کے کہ کیا کرے کہ ان قصوں کو جھوٹے قرار دے۔سچائی ایک ایسی چیز ہے کہ وہ صرف واقعات سے ہی ثابت نہیں ہوتی بلکہ دلائل عقلیہ بھی اس پر شہادت دیتے ہیں لیکن جو جھوٹ ہے نہ اس کے لئے واقعات صحیحہ ثابت شدہ ملتے ہیں اور نہ عقلی دلائل اس پر قائم ہو سکتے ہیں۔افسوس کہ عیسائی کسی بات پر بھی غور نہیں کرتے انہیں کے ان سائیکلو پیڈیا میں لکھا ہے کہ تھو ما رسول جس کا ذکر انجیلوں میں درج ہے ہندوستان میں آیا تھا اور میلا پور میں شہید ہوا۔اور یہ بھی اسی میں لکھا تھا کہ یسوع کا ایک بھائی بھی اس کے ساتھ تھا۔اب جائے غور ہے کہ ایک طرف تو عیسائی صاحبان قبول کرتے ہیں کہ اسی بلاد شام سے