فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 246
ريويو اف ريليجنز 246 فلسطین سے کشمیر تک حضرت مسیح کی قبر بمقام سری نگر اب اس کے بعد ایک بھاری ثبوت اس بات کا کہ حضرت عیسی علیہ السلام صلیب سے مخلصی پا کر آسمان کی طرف نہیں اٹھائے گئے بلکہ کسی اور ملک کی طرف چلے گئے۔ایک اور ہے جو ہم ذیل میں لکھتے ہیں لیکن قبل تحریر اس وقعہ کے ہم ناظرین پر ظاہر کرتے ہیں کہ یہ قصہ کہ گویا حضرت مسیح مصلوب ہونے کے بعد یا مصلوب ہونے سے پہلے آسمان پر چلے گئے تھے ایسا ایک بیہودہ قصہ ہے کہ ایک غور کرنے والی طبیعت اس کو بدیہی طور پر جھوٹا قرار دے گی۔خدا تعالیٰ کا یہ عام قانون قدرت ہے کہ کوئی شخص مع جسم عنصری آسمان پر نہیں جا سکتا اور نہ نازل ہو سکتا ہے۔چنانچہ اس کی نظیر الیاس کا قصہ ہے کیونکہ الیاس کا قصہ جس کی دوبارہ آمد پر مسیح کی نبوت موقوف تھی۔آخر مسیح کی زبان سے ہی قابل تاویل ٹھہرا اور دوبارہ آنا اس کا محض ایک مجاز کے طور پر تصور کیا گیا پھر کیونکر اعتبار کیا جائے کہ مسیح کے صعود اور نزول سے مراد حقیقی صعود اور نزول ہے جس امر کی دنیا کی ابتدا سے کوئی بھی نظیر نہیں۔اس امر پر اصرار کرنا اپنے تئیں ہلاکت کے گڑھے میں ڈالنا ہے۔ماسوا اس کے یہ امر سراسر غیر معقول ہے کہ ایک نبی اپنے فرض منصبی کو نا تمام چھوڑ کر آسمان پر جا بیٹھے مسیح کو اس بات کا اقرار ہے کہ اس کی اور بھی بھیڑیں ہیں جن کو پیغام پہنچانا ضروری ہے اور یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ وہ یہودی جو دوسرے ملکوں میں منتشر ہو گئے تھے ابھی ان کو ہدایت کرنا باقی ہے۔پس صلیب سے مخلصی پا کر مسیح کا یہ فرض تھا کہ ان بدقسمت یہودیوں کو اپنے آنے سے مطلع کرتا جن کو اس کے آنے کی خبر بھی نہیں تھی کیونکہ وہ لوگ ہندوستان کے بعد حصوں میں خاص کر کشمیر میں مدت سے سکونت پذیر ہو گئے تھے اور مسیح نے خود اس بات کو بیان کر دیا تھا کہ یہ اس کا فرض ہے کہ منتشر شدہ بنی اسرائیل کو بھی ان سے ملاقات کر کے ان کو اپنی ہدایتوں سے فیضیاب کرے پس ایک راستباز کے بدن پر اس سے لرزہ پڑتا ہے کہ یہ گناہ عظیم مسیح کی طرف منسوب کر سکتے ہیں کہ وہ ایک زندہ شخص کو جس میں اچھے اچھے کام کرنے کی قوتیں موجود ہیں اور مخلوق کو اپنی ہدایتوں سے نفع پہنچا سکتا ہے تمام کاموں سے معطل کر