فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 245
ریویو آف ریلیجنز 245 فلسطین سے کشمیر تک ہے کہ یہود کے حکام کے درمیان یسوع کے مرید تھے جو کہ اس کو اگر چہ عوام کی مخالفت سے بچ نہ سکتے تھے تاہم ان کو امید تھی کہ ہم مرنے سے اس کو بچالیں گے۔یوسف ایک دولت مند آدمی تھا اور اس کو مسیح کے بچانے کے وسائل مل گئے۔نئی قبر میں بھی عین مقام صلیب کے قریب ہی اس نے تیار کرالی اور جسم بھی پیلاطوس سے مانگ لیا اور نقود یموس یہودیوں کی توجہ ہٹانے کے لئے بہت سارے مصالح خرید لایا اور یسوع کو جلدی سے قبر میں رکھا گیا اور ان لوگوں کی سعی سے وہ بچ گیا کفرورر نے یوحنا ۱۷:۲۰ کی عجیب تفسیر کی ہے اور اس فقرے سے کہ میں ابھی باپ پاس نہیں گیا صرف مرنا مرادلیا ہے کیونکہ آسمان پر جانے سے مراد دراصل مرنا ہوتا ہے اور اس کے جواب کا مطلب صرف یہ ہے کہ مجھے مت چھوڑ کیونکہ میں ابھی تک گوشت اور خون ہوں میں ابھی مرا نہیں ہوں۔اس واقعہ کے بعد یسوع پوشیدہ طور پر چند دفعہ اپنے حواریوں سے ملا اور جب اسے یقین ہو گیا کہ ظاہری موت نے اس کے کام کی صداقت پر آخری مہر لگا دی ہے تو وہ پھر کسی تنہائی کی جگہ میں چلا گیا۔) ایسا ہی مشہور و معروف رینین اپنی کتاب میں لکھتا ہے (لائف آف جیزس صفحہ ۲۶۹) یہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ یسوع کی موت کی اصلیت کی نسبت بہت شکوک پیدا ہو گئے تھے جو لوگ صلیب پر موت کو دیکھنے کے عادی تھے وہ کبھی اس بات کو تسلیم کرہی نہ سکتے تھے کہ چند گھنٹے صلیب پر رہ کر جیسا کہ یسوع رہا موت واقع ہو سکتی ہے وہ بہت ساری مثالیں مصلوب آدمیوں کی پیش کرتے تھے جن کو وقت پر صلیب سے اتارا گیا تو آخر کار علاج کرنے سے وہ بالکل شفایاب ہو گئے۔آری گن کا (ابتدائی زمانہ کا ایک مشہور عیسائی فاضل ) کچھ عرصہ بعد یہ خیال تھا کہ اس قدر جلدی موت کا واقع ہونا مسح کا معجزہ ہے۔یہی حیرت مرقس کے بیان میں بھی پائی جاتی ہے۔