فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 240 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 240

ریویو آف ریلیجنز 240 فلسطین سے کشمیر تک زاری اور تضرع کو انتہا تک پہنچا دے تب بھی وہ عا قبول نہ ہو۔دعا کا مطلب صرف یہ تھا کہ وہ سولی سے بچایا جاوے کیونکہ یہودیوں نے یہ سوچا تھا کہ مسیح کو سولی دے کر یہ امر لوگوں کے ذہن نشین کریں کہ وہ نعوذ باللہ صادق نہیں ہے اور ان کا ذبوں میں سے ہے جن پر خدا کی لعنت ہے یہی غم تھا جس کی وجہ سے مسیح نے ساری رات دعا کی تھی ورنہ اس کو موت کا کوئی غم نہ تھا اور ایسی حالت میں ضروری تھا کہ خدا تعالیٰ مسیح کی بریت کے لئے اس کی دعا منظور فرما تا سو وہ دعا منظور کی گئی۔چنانچہ انجیل میں صریح الفاظ میں اس کا ذکر ہے کہ مسیح رات کو روتا رہا اور وہ جناب الہی میں چینیں مارتا رہا اور ساری رات اس کے آنسو جاری رہے پس اس کے تقویٰ کی وجہ سے وہ دعا قبول کی گئی دیکھو عبرانیوں 7:5 اس مقام میں عیسائیوں کی عقل اور سمجھ پر بہت سخت تعجب ہے کہ جس حالت میں انجیل خود گواہی دیتی ہے کہ باغ والی دعا قبول کی گئی تو پھر قبول ہونے کے بجز اس کے اور کیا معنے ہیں کہ وہ صلیب پر مرنے سے بچایا گیا۔پھر تیسری دلیل اس بات پر کہ مسیح صلیب پر نہیں مرا اس کا زندہ دیکھا جانا ہے یعنی وہ بعد صلیب کے اپنے حواریوں کو ملا اور اپنے زخم دکھلائے اور ان کے ساتھ گلیل کی طرف گیا اس جگہ عقل کو اس فتویٰ کے لئے کوئی راہ نہیں کہ وہ مر کر پھر زندہ ہو گیا کیونکہ یہ امر غیر معقول اور سخت بعید از قیاس ہے جو بودی اور کمزور شہادتوں سے ثابت نہیں ہوسکتا بلکہ عقل کے لئے سہل طریق یہی ہے کہ صلیب پر اس کی جان نہیں نکلی تھی جیسا کہ اس سے پہلے بھی ایسے اتفاق کئی ہوئے تھے کہ بعض آدمی صلیب پر نہیں مرے تھے۔پس طریق معقول کو چھوڑ کر طریق نامعقول کو اختیار کرنا سراسر سچائی سے دشمنی اور جہالت سے دوستی ہے اگر مسیح نئے سرے زندہ کیا جاتا تو اس کو قوم کا کچھ خوف نہ ہوتا کیونکہ جس خدا نے اس کو مار کر پھر زندہ کیا وہ خدا اس کو ضرور بچاتا اور اس کا یقین بڑھ جاتا پھر اس کے کیا معنے ہیں کہ مسیح دوبارہ زندگی کے بعد بھی یہود سے ڈرتا رہا کہ مجھے پکڑ نہ لیں اور اپنے شاگردوں کو منع کرتا رہا کہ یہود کو میری اطلاع نہ ہوتا ایسا نہ ہو کہ وہ لوگ پھر آ کر مجھے پکڑ لیں۔پھر عجیب در عجیب یہ بات ہے کہ مسیح کو دوبارہ خدا نے زندہ تو کیا مگر اس کے زخموں کے اچھا کرنے پر وہ قادر نہ ہوسکا