فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 226
براہین احمدیہ حصہ پنجم 226 فلسطین سے کشمیر تک گریہ وزاری سے دُعا کی اور اُس کے آنسو اُس کے رخساروں پر پڑتے تھے پس بوجہ اُس کے تقویٰ کے وہ دُعا منظور ہوگئی۔اور کرئیر ڈلا سیرا جنوبی اٹلی کے سب سے مشہور اخبار نے مندرجہ ذیل عجیب خبر شائع کی ہے ۱۳۔جولائی ۱۸۷۹ء کو یروشلم میں ایک بوڑھا راہب مسمی کور مرا جو اپنی زندگی میں ایک ولی مشہور تھا۔اُس کے پیچھے اس کی کچھ جائیداد رہی۔اور گورنر نے اس کے رشتہ داروں کو تلاش کر کے اُن کے حوالے دولاکھ فرینک (ایک لاکھ پونے اُنیس ہزار روپیہ) کئے جو مختلف ملکوں کے سکوں میں تھے۔اور اس غار میں سے ملے جہاں وہ راہب بہت عرصہ سے رہتا تھا۔روپیہ کے ساتھ بعض کا غذات بھی ان رشتہ داروں کو ملے جن کو وہ پڑھ نہ سکتے تھے۔چند عبرانی زبان کے فاضلوں کو ان کا غذات کے دیکھنے کا موقعہ ملا تو ان کو یہ عجیب بات معلوم ہوئی کہ یہ کا غذات بہت ہی پرانی عبرانی زبان میں تھے۔جب ان کو پڑھا گیا تو اُن میں یہ عبارت تھی۔پطرس ماہی گیر یسوع مریم کے بیٹے کا خادم اس طرح پر لوگوں کو خدا تعالیٰ کے نام میں اور اس کی مرضی کے مطابق خطاب کرتا ہے۔اور یہ خط اس طرح ختم ہوتا ہے۔دو میں پطرس ماہی گیر نے یسوع کے نام میں اور اپنی عمر کے نوے سال میں یہ محبت کے الفاظ اپنے آقا اور مولیٰ یسوع مسیح مریم کے بیٹے کی موت کے تین عید فسح بعد ( یعنی تین سال بعد ) خداوند کے مقدس گھر کے نزدیک بولیر کے مقام میں لکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔“ ان فاضلوں نے نتیجہ نکالا ہے کہ یہ نسخہ پطرس کے وقت کا چلا آتا ہے۔لنڈن بائیبل سوسائٹی کی بھی یہی رائے ہے اور ان کا اچھی طرح امتحان کرانے کے بعد بائیبل سوسائٹی اب ان کے عوض چار لاکھ لیرا ( دولاکھ ساڑھے سینتیس ہزار روپیہ ) مالکوں کو دے کر کاغذات کو لینا چاہتی ہے۔یسوع ابن مریم کی دعا۔ان دونوں پر سلام ہو۔اُس نے کہا۔اے میرے خدا میں اس قابل نہیں کہ اس چیز پر غالب آ سکوں جس کو میں بُراسمجھتا ہوں۔نہ میں نے اس نیکی کو حاصل کیا ہے جس کی مجھے خواہش تھی مگر دوسرے لوگ اپنے اجر کو اپنے ہاتھ میں رکھتے ہیں اور میں نہیں۔لیکن میری بڑائی میرے کام میں ہے۔مجھ سے زیادہ بُری حالت میں کوئی