فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 225 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 225

براہین احمدیہ حصہ پنجم 225 فلسطین سے کشمیر تک متعلق ایک عبارت ہے جس کو میں اپنی کتاب ” تحفہ گولڑویہ کے صفحہ ۱۲۷ میں درج کر چکا ہوں اور اس جگہ اس کے ترجمہ پر کفایت کی جاتی ہے۔اور وہ یہ ہے:۔اگر چہ صلیب کے وقت ہاتھ اور پاؤں دونوں پر میخیں ماری جائیں پھر بھی بہت تھوڑا خون انسان کے بدن سے نکلتا ہے اس واسطے صلیب پر لوگ رفتہ رفتہ اعضاء پر زور پڑنے کے سبب تشیخ میں گرفتار ہو کر مر جاتے ہیں یا بھوک سے مر جاتے ہیں۔پس اگر فرض بھی کر لیا جاوے کہ قریب چھ گھنٹہ صلیب پر رہنے کے بعد یسوع جب اتارا گیا تو وہ مرا ہوا تھا۔تب بھی نہایت ہی اغلب بات یہ ہے کہ وہ صرف ایک موت کی سی بیہوشی تھی۔اور جب شفا دینے والی مر ہمیں اور نہایت خوشبودار دوائیاں مل کر اُسے غار کی ٹھنڈی جگہ میں رکھا گیا تو اُس کی بیہوشی دور ہوئی۔اس دعویٰ کی دلیل میں عموما یوسفس کا واقعہ پیش کیا جاتا ہے جہاں یوسفس نے لکھا ہے کہ میں ایک دفعہ ایک فوجی کام سے واپس آرہا تھا تو راستہ میں میں نے دیکھا کہ کئی ایک یہودی قیدی صلیب پر لٹکے ہوئے ہیں ان میں سے میں نے پہچانا کہ تین میرے واقف تھے۔پس ٹیٹس (حاکم وقت) سے اُن کے اتار لینے کی اجازت حاصل کی اور ان کو فوراً اتار کر اُن کی خبر گیری کی تو ایک بالآخر تندرست ہو گیا پر باقی دو مر گئے۔“ اور کتاب ”ماڈرن دوٹ اینڈ کرسچن بیلیف“ کے صفحہ ۴۵۵ و ۴۵۷ و ۳۴۷ میں انگریزی میں ایک عبارت ہے جس کو ہم اپنی کتاب تحفہ گولڑویہ کے صفحہ ۱۳۸ میں لکھ چکے ہیں۔ترجمہ اس کا ذیل میں لکھا جاتا ہے اور وہ یہ ہے:۔شلیر میجر اور نیز قدیم متقین کا یہ مذہب تھا کہ یسوع صلیب پر نہیں مرا بلکہ ایک ظاہراً موت کی سی حالت ہوگئی تھی اور قبر سے نکلنے کے بعد کچھ مدت تک اپنے حواریوں کے ساتھ پھرتا رہا اور پھر دوسری یعنی اصلی موت کے واسطے کسی علیحدگی کے مقام کی طرف روانہ ہو گیا۔اور یسعیا نبی کی کتاب باب ۵۳ میں بھی اسی کی طرف اشارہ ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اپنی دعا بھی جو انجیل میں موجود ہے یہی ظاہر کر رہی ہے جیسا کہ اُس میں لکھا ہے۔دَعَا بِدُ مُوعٍ جَارِيَةٍ وعَبَرَاتٍ مُتَحَدِرَةٍ فَسُمِعَ لِتَقْوَاهُ۔یعنی عیسی نے بہت