فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 224
براہین احمدیہ حصہ پنجم 224 فلسطین سے کشمیر تک ہے جہاں لکھا ہے کہ یسوع جسے تم نے قتل کر کے کاٹھ پر لٹکا یا “۔دیکھو اعمال باب ۵ آیت ۳۰۔انجیل کے اس فقرہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ پہلے قتل کیا پھر کاٹھ پر لٹکایا اور یادر ہے کہ جیسا کہ پادریوں کی عادت ہے انجیلوں کے بعض اردو تر جمہ میں اس فقرہ کو بدلا کر لکھ دیا گیا ہے مگر انگریزی انجیلوں میں اب تک وہی فقرہ ہے جوا بھی ہم نے نقل کیا ہے۔بہر حال یہ ثابت شدہ امر ہے کہ یہودیوں کے حضرت عیسی کے ہلاک کرنے کے بارے میں دو مذہب ہیں۔جن میں سے ایک یہ ہے کہ اول قتل کیا اور پھر صلیب دیا۔پس اس مذہب کا بھی رد کرنا ضروری تھا اور ایسے خیال کے لوگوں کا پہلی آیت میں ذکر بھی ہے۔یعنی اس آیت میں کہ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ * پس جب کہ دعوی یہ تھا کہ ہم نے عیسی کو قتل کیا۔تو ضرور تھا کہ پہلے اسی دعویٰ کو رد کیا جاتا۔لیکن خدا تعالیٰ نے روکو مکمل کرنے کے لئے دوسرے فرقہ کا بھی اس جگہ رد کر دیا جو کہتے تھے کہ ہم نے پہلے صلیب دیا ہے۔پس اس کے رد کے لئے مَا صَلَبُوہ فرما دیا اور بعد اس کے اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ وَإِنَّ الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ مَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتَّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِيْنًا * ترجمہ : یعنی عیسی نہ قتل کیا گیا اور نہ صلیب دیا گیا بلکہ ان لوگوں پر حقیقت حال مشتبہ کی گئی۔اور یہود و نصاری جو مسیح کے قتل یا رفع روحانی میں اختلاف رکھتے ہیں محض شک میں مبتلا ہیں۔اُن میں سے کسی کو بھی علم صحیح حاصل نہیں محض ظقوں اور شکوک میں گرفتار ہیں اور وہ خود یقین نہیں رکھتے کہ سچ مچ عیسی کو قتل کر دیا گیا تھا۔اور یہی وجہ ہے کہ عیسائیوں میں بعض فرقے اس بات کے قائل ہیں کہ مسیح کی آمد ثانی الیاس نبی کی طرح بروزی طور پر ہے یعنی یہ عقیدہ بالکل غلط ہے کہ مسیح زندہ آسمان پر بیٹھا ہے بلکہ درحقیقت وہ فوت ہو چکا ہے اور یہ جو وعدہ ہے کہ آخری زمانہ میں مسیح دوبارہ آئے گا اس آمد ثانی سے مراد ایک ایسے آدمی کا آنا ہے کہ جو عیسی مسیح کی خو اور خلق پر ہوگا نہ یہ کہ عیسی خود آ جائے گا۔چنانچہ کتاب نیولائف آف جیزس جلد اوّل صفحہ ۴۱۰ مصنفہ ڈی ایف سٹر اس میں اس کے النساء: 158