فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 222 of 329

فلسطین سے کشمیر تک (ایک عظیم الشان تحقیق) — Page 222

براہین احمدیہ حصہ پنج 222 فلسطین سے کشمیر تک صلیب کے ذریعہ سے یہود نے حضرت عیسی علیہ السلام کو ہلاک نہیں کیا تھا تو اس تقدیر میں مَا قَتَلُوهُ کا لفظ جو اُس پر مقدم ہے محض بیکار ہو جاتا ہے۔اور اگر یہ کہا جاوے کہ ما فَتَلُوہ کے لفظ کو اس لئے بڑھایا گیا ہے تا کہ دلالت کرے اس بات پر کہ بہ نیت قتل ٹانگیں ان کی نہیں توڑی گئیں تھیں تو بر تقدیر تسلیم اس بات کے بھی لفظ مَا قَتَلُوهُ کا بعد لفظ مَا صَلَبُوہ کے واقع ہونا چاہیئے تھا کیونکہ ٹانگیں بعد صلیب سے اتارے جانے کے توڑی جاتی ہیں۔پس وجہ تقدیم مَا قَتَلُوہ کی اوپر مَا صَلَبُوہ کے کیا ہے؟ ارشاد فرماویں۔اقول۔یادر ہے کہ قرآن شریف کی یہ آیتیں ہیں جن میں مذکورہ بالا ذکر ہے وَقَوْلِهِمُ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِن شُبِّهَ لَهُمْ وَإِنَّ الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ مَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتَّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِيْنَا۔بَلْ رَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ وَ كَانَ اللَّهُ عَزِيزاً حَكِيمًا الجزو نمبر 4 سورۃ النساء ترجمہ۔اور ان کا (یعنی یہود کا یہ کہنا کہ ہم نے مسیح عیسی ابن مریم رسول اللہ کوقتل کر دیا ہے حالانکہ نہ انہوں نے اس کو قتل کیا اور نہ صلیب دیا بلکہ یہ امر اُن پر مشتبہ ہو گیا۔اور جو لوگ عیسی کے بارے میں اختلاف رکھتے ہیں ( یعنی عیسائی کہتے ہیں کہ عیسی زندہ آسمان پر اٹھایا گیا اور یہودی کہتے ہیں کہ ہم نے اس کو ہلاک کر دیا ) یہ دونوں گروه محض شک میں پڑے ہوئے ہیں حقیقت حال کی اُن کو کچھ بھی خبر نہیں اور صحیح علم ان کو حاصل نہیں محض انکلوں کی پیروی کرتے ہیں۔یعنی نہ عیسی آسمان پر گیا جیسا کہ عیسائیوں کا خیال ہے اور نہ یہودیوں کے ہاتھوں سے ہلاک کیا گیا جیسا کہ یہودیوں کا گمان ہے بلکہ صحیح بات ایک تیسری بات ہے کہ وہ مخلصی پا کر ایک دوسرے ملک میں چلا گیا اور خود یہودی یقین نہیں رکھتے کہ انہوں نے اس کو قتل کر دیا بلکہ خدا نے اُس کو اپنی طرف اُٹھا لیا اور خدا غالب اور حکمتوں والا ہے۔اب ظاہر ہے کہ ان آیات کے سر پر یہ قول یہودیوں کی طرف سے منقول ہے کہ انا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَم۔لا یعنی ہم نے مسیح عیسی ابن مریم کو قتل کیا۔سو جس قول کو خدا تعالیٰ نے یہودیوں کی طرف سے بیان فرمایا ہے ضرور تھا کہ پہلے اسی کو رڈ کیا ا۔النساء: 1158159 ۲۔النساء: 158